
نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ای 20 پٹرول محفوظ ہے اور انجن کو کوئی خاص نقصان پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ سائنسی شواہد نے ای 20 پیٹرول کی حفاظت اور کارکردگی کی تصدیق کی ہے۔ حکومت نے کہا کہ ای 20 پیٹرول، جو 20 فیصد ایتھنول اور 80 فیصد پیٹرول کا مرکب ہے، مکمل طور پر محفوظ اور موثر ہے۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر مملکت سریش گوپی نے جمعرات کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔ اپنے جواب میں، گوپی نے کہا کہ سائنسی مطالعات اور فیلڈ ڈیٹا نے ای 20 پیٹرول سے گاڑی کی کارکردگی پر کوئی خاص اثر نہیں پایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے خدشات کی چھان بین کی گئی۔
سریش گوپی نے کہا کہ حکومت کا اندازہ نہ صرف لیبارٹری کی تحقیق پر مبنی ہے بلکہ ملک گیر نفاذ کے بعد وسیع تجربے پر بھی ہے۔ ملک میں روزانہ تقریباً 80 ملین گاڑیاں ریٹیل پیٹرول پمپس پر آتی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد پیٹرول گاڑیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ای 20 میں منتقلی سے قومی سطح پر بھی اہم فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ ایتھنول ملاوٹ والے پیٹرول نے 1.97 لاکھ کروڑ سے زیادہ کا غیر ملکی زر مبادلہ کی بچت کی ہے۔ سریش گوپی نے کہا کہ تقریباً 316 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل کو تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ کاربن کے اخراج میں تقریباً 952 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی ہوئی ہے اور 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے فوائد کسانوں کو منتقل کیے گئے ہیں۔
پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت سریش گوپی نے کہا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنے کے بارے میں کوئی پختہ وعدہ نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں بھاری اتار چڑھاو¿ کا حوالہ دیا اور نشاندہی کی کہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ( او ایم سی ) کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد