ایم پی فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کا گھڑیال اور نایاب کچھووں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے چمبل میں ہائی الرٹ
ایم پی فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کا گھڑیال اور نایاب کچھووں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے چمبل میں ہائی الرٹ بھوپال، 23 جولائی (ہ س)۔ ملک میں گھڑیال کے تحفظ کے سب سے اہم مرکز قومی چمبل سینکچری میں نایاب آبی جنگلی حیاتیات کی حفاظت کو لے کر مدھیہ پردیش فاریسٹ ڈپار
گھڑیال اور کچھوے کی فائل تصویر


ایم پی فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کا گھڑیال اور نایاب کچھووں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے چمبل میں ہائی الرٹ

بھوپال، 23 جولائی (ہ س)۔ ملک میں گھڑیال کے تحفظ کے سب سے اہم مرکز قومی چمبل سینکچری میں نایاب آبی جنگلی حیاتیات کی حفاظت کو لے کر مدھیہ پردیش فاریسٹ ڈپارٹمنٹ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ رابطہ عامہ افسر کے کے جوشی نے جمعرات کے روز بتایا کہ بین ریاستی وائلڈ لائف اسمگلنگ گروہوں کے دوبارہ سرگرم ہونے کے خدشے کے درمیان چمبل ندی کے حساس علاقوں میں نگرانی کئی گنا بڑھا دی گئی ہے۔ باقاعدہ گشت، غیر قانونی ماہی گیری پر سخت کارروائی، مشتبہ ماہی گیروں کی مسلسل نگرانی اور اتر پردیش-راجستھان کے ساتھ مشترکہ مہم چلانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (وائلڈ لائف) اور چیف وائلڈ لائف وارڈن ڈاکٹر سمیتا راجورا نے ریاستی سطح کا الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ فاریسٹ افسران کو ہدایات دی ہیں کہ چمبل سینکچری کے ہر حساس ندی گھاٹ پر خصوصی نگرانی رکھی جائے نیز گھڑیال اور محفوظ کچھووں کے شکار و اسمگلنگ کی کسی بھی کوشش کو ابتدائی سطح پر ہی ناکام بنایا جائے۔ اس کے لیے اتر پردیش اور راجستھان کے فاریسٹ ڈپارٹمنٹوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کر کے خفیہ معلومات کا تبادلہ، مشترکہ گشت اور باہمی کارروائی کی جائے گی۔

فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق جولائی 2025 میں اسٹیٹ ٹائیگر اسٹرائیک فورس شیوپوری نے چمبل ندی علاقے میں گھڑیال اور نایاب کچھووں کی اسمگلنگ سے جڑے ایک منظم بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کیا تھا۔ رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ الرٹ کے تحت چمبل سینکچری کے تمام ندی گھاٹوں پر باقاعدہ اور ناگہانی گشت کی جائے گی۔ ہر گھاٹ انچارج کو مچھلی پکڑنے والے افراد کا اندراج (رجسٹریشن) تیار کرنے، مشتبہ سرگرمیوں کی فوری تصدیق کرنے نیز گھڑیال اور کچھووں کے افزائشِ نسل کے دورانیے کے دوران حساس مقامات پر چوبیسوں گھنٹے نگرانی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ غیر قانونی طور پر ماہی گیری کرنے والوں کے خلاف وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سخت کارروائی بھی کی جائے گی۔

فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کا ماننا ہے کہ قومی چمبل سینکچری نہ صرف ملک میں خطرے میں گھیرے گھڑیالوں کا سب سے بڑا قدرتی مسکن ہے، بلکہ کئی نایاب کچھووں کی انواع اور ڈالفن سمیت مالا مال آبی حیاتیاتی تنوع کا بھی اہم مرکز ہے۔ ایسے میں وائلڈ لائف اسمگلنگ پر موثر روک لگانے اور اس حساس ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے تین ریاستوں کے درمیان باہمی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande