
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س): پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر بدھ کے روز راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے احتجاج کے باعث ماحول کشیدہ ہوگیا۔
دوپہر کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت ابتدا ہی سے نیٹ پیپر لیک سمیت ہر معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت بحث کے لیے آمادہ ہے تو پھر اپوزیشن نعرے بازی کرکے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کیوں ڈال رہی ہے۔
ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے بھی کہا کہ حکومت نیٹ پیپر لیک سمیت تمام معاملات پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن اپنے احتجاج کے ذریعے ایوان کے وقار کو مجروح کر رہی ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ میں غیر جانبدارانہ بحث کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے پر راجیہ سبھا کے قاعدہ 267 کے تحت بحث کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس پر نائب چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ قاعدہ 267 کے تحت نوٹس صرف انتہائی غیر معمولی حالات میں ہی منظور کیے جاتے ہیں۔ اس پر ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ تروچی شیوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کے موجودہ حالات ایسے ہی غیر معمولی نوعیت کے ہیں، اس لیے اس قاعدے کے تحت بحث کرائی جانی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد