
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت سے کہا ہے کہ وہ دھار کی بھوج شالہ کے قریب جمعہ کی نماز کے لیے بہتر جگہ فراہم کرے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت اس حکم پر صحیح طریقے سے عمل کرے۔
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ وہ اس معاملے میں ہدایات لے کر آئیں۔ سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے پیش وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ریاستی حکومت مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کے لیے بھوج شالہ کے قریب ایک کھلی جگہ فراہم کرے، لیکن ریاستی حکومت نے جو جگہ بتائی ہے وہ بھوج شالہ سے دو کلومیٹر دور ہے۔
اس پر مہتا نے کہا کہ مجوزہ جگہ متنازعہ مقام سے 900 میٹر کی دوری پر ہے۔ تاہم مہتا نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں گے اور اس کے حل کے لیے اقدامات کریں گے۔
14 جولائی کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بھوج شالہ احاطے کے اندر مسلم برادری کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔
مسلم فریق چاہتا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم سے پہلے والی صورتحال بحال کر دی جائے، لیکن سپریم کورٹ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ بھوج شالہ احاطے کے قریب ایک جگہ ہر جمعہ کو نماز ادا کرنے کے لیے فراہم کی جائے۔ نماز ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان ادا کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد