دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں، طلبہ پر کارروائی کے لیے وزیر اعظم معافی مانگیں : راہل گاندھی
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام کو برباد کرنے، پیپر لیک معاملات میں جواب دہی طے نہ کرنے اور طلبہ کی آواز دبانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں 152 سے زیادہ
دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں، طلبہ پر کارروائی کے لیے وزیر اعظم معافی مانگیں: راہل گاندھی


نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام کو برباد کرنے، پیپر لیک معاملات میں جواب دہی طے نہ کرنے اور طلبہ کی آواز دبانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں 152 سے زیادہ سوالیہ پرچے لیک ہوئے ہیں، جس سے 7.5 کروڑ طلبہ اور ان کے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، طلبہ پر طاقت کا استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلبہ سے معافی کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی نے یہاں کانگریس کے نئے دفتر اندرا بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں 20 جولائی کو طلبہ کے ’سنسد چلو‘ مارچ اور جنتر منتر پر ہوئے مظاہرے سے متعلق ویڈیوز اور پریزنٹیشن دکھاتے ہوئے کہا کہ پُرامن طریقے سے احتجاج کر رہے طلبہ پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے سخت کارروائی کی۔ طلبہ کو مارا پیٹا گیا، گھسیٹا گیا اور ان کے جائز مطالبات سننے کے بجائے دباؤ کا راستہ اختیار کیا گیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کا تعلیمی نظام سنگین بحران سے گزر رہا ہے اور حکومت طلبہ کے مسائل کے تئیں بالکل حساس نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور بھرتی کے عمل میں تاخیر نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی بڑے معاملے میں قصورواروں کو سزا نہیں ملی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں 152 سے زیادہ سوالیہ پرچے لیک ہوئے ہیں۔ ان واقعات کا براہ راست اثر 7.5 کروڑ طلبہ اور ان کے خاندانوں پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے میں بھی اب تک کسی کو مؤثر سزا نہیں ملی اور حکومت مسلسل جواب دہی سے بچ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات پر بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، بھارت حکومت کا سالانہ تعلیمی بجٹ تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے، جبکہ بھارتی خاندان صرف نیٹ امتحان کی تیاری اور اس سے متعلق اخراجات پر تقریباً 1.32 لاکھ کروڑ روپے خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت امتحانی نظام کی اعتباریت یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

راہل گاندھی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں تعلیمی نظام کو منظم طریقے سے کمزور کیا گیا ہے۔ تعلیم اور بھرتی کے نظام میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کا اعتماد توڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے دھرمیندر پردھان کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

راہل گاندھی نے اپنی تین اہم مانگیں رکھتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، طلبہ پر طاقت کے استعمال اور مبینہ سخت کارروائی کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ایکشن کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے طلبہ سے عوامی طور پر معافی مانگیں۔

راہل گاندھی نے 20 اور 21 جولائی کو طلبہ کی حمایت میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ صرف منصفانہ امتحانی نظام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت ان کی بات سننے کے بجائے پولیس طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کے دوران جب پولیس انہیں ہٹانے آئی تو ان کے ساتھ دھکا مکی کی گئی۔ انہیں گھسیٹا گیا، جس سے ان کے منہ سے خون نکلا اور انہیں چوٹیں آئیں۔ ذاتی چوٹ کا معاملہ اہم نہیں ہے، لیکن طلبہ کے مستقبل کا سوال سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی طلبہ کے مسائل کو ملک بھر میں اٹھاتی رہے گی اور پیپر لیک، بھرتی گھوٹالوں، تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت اور نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے موضوعات پر حکومت کو جواب دہ بنانے کی مہم جاری رکھے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande