
واشنگٹن،21جولائی(ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی کو نشانہ بنایا گیا تو تہران کو اس کی ’کئی گنا زیادہ قیمت‘ ادا کرنا پڑے گی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے حالیہ کارروائیوں میں مزید تین اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک فوجی کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے ہر امریکی فوجی کی ہلاکت کا بھرپور اور کئی گنا سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام کو اس حوالے سے واضح ہدایات دے دی گئی ہیں۔اس سے قبل امریکی وزارت دفاع نے دو فوجیوں کی شناخت ظاہر کی تھی جو گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 25 سالہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فہان، جن کا تعلق ہوائی سے تھا، اور 19 سالہ فوجی ازابیلا گونزالیس، جو ریاست ٹیکساس کی رہائشی تھیں، شامل ہیں۔ دونوں اردن میں داعش مخالف امریکی مشن کی معاونت کر رہے تھے، تاہم ان کی ہلاکت کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کے دوران دو امریکی فوجی مارے گئے، جبکہ شمالی عراق میں مار گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کے غیر پھٹنے والے گولہ بارود کو ناکارہ بنانے کے دوران ہونے والے کنٹرولڈ دھماکے میں ایک اور فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تصادم میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مکمل جنگی صورتحال میں ہے۔ادھر امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے جنوبی شہر بوشہر تک بمباری کی، جہاں ایران کا اہم جوہری بجلی گھر واقع ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بوشہر کے شہر خورموج میں دو فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعد ازاں صوبہ فارس کے شہر شیراز کے ایک علاقے پر بھی امریکی فضائی حملہ کیا گیا، تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب تہران نے خلیجی ممالک اور اردن کی جانب حملے جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار دو ٹینکروں پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی اور عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan