محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں گرانے کا فیصلہ افسوسناک، تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے: کل جماعتی وفاق مہاراشٹر
محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں گرانے کا فیصلہ افسوسناک، تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے: کل جماعتی وفاق مہاراشٹراورنگ آباد ، 21 جولائی (ہ س)۔ کل جماعتی وفاق مہاراشٹر نے اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی ک
Politics Maha Johar University


محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں گرانے کا فیصلہ افسوسناک، تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے: کل جماعتی وفاق مہاراشٹراورنگ آباد ، 21 جولائی (ہ س)۔ کل جماعتی وفاق مہاراشٹر نے اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیم اور تعلیمی اداروں کے مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔ تنظیم کے صدر ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کا شعبہ متاثر ہوگا بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کل جماعتی وفاق مہاراشٹر کی جانب سے جاری بیان میں ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو سیاسی اختلافات یا تنازعات کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جہاں بڑی تعداد میں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لیے اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے بجائے ادارے کے تحفظ اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد یا ادارے سے متعلق قانونی یا انتظامی نوعیت کے معاملات موجود ہیں تو ان کا حل قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن تعلیمی عمارتوں کو منہدم کرنا مناسب راستہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اعظم خان پہلے ہی متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور اس وقت جیل میں ہیں، تاہم اس بنیاد پر ان کی قائم کردہ یونیورسٹی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا طلبہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی معیاری تعلیم تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر غریب اور پسماندہ طبقے کے طلبہ کے لیے۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں کی عمارتیں گرانا ایک تشویشناک رجحان ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر تعمیرات سے متعلق کوئی قانونی بے ضابطگی موجود ہے تو حکومت جرمانہ، ضابطہ بندی یا دیگر قانونی ذرائع اختیار کر سکتی ہے، تاکہ ادارہ بھی برقرار رہے اور قانونی تقاضے بھی پورے ہو جائیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کارروائی کو اسلاموفوبیا اور سیاسی انتقام کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اعظم خان کی سیاسی حیثیت کمزور ہو چکی ہے، لیکن اس بنیاد پر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے کو نقصان پہنچانا انصاف اور تعلیمی مفاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کل جماعتی وفاق مہاراشٹر کے صدر نے ماہرین تعلیم، سماجی تنظیموں، انصاف پسند شہریوں اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں آگے آئیں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں، تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ مستقبل میں بھی اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے کے بجائے قانونی اور انتظامی حل تلاش کیا جائے اور ادارے کو محفوظ رکھتے ہوئے طلبہ کے تعلیمی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تعلیمی اداروں کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے ملک کے تعلیمی ماحول پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande