
ایم پی میں یو سی سی نافذ ہونے کے بعد جائیداد سے متعلق قانون، شادی و طلاق سے لے کر لو ان تک کے قواعد میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی
بھوپال، 21 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اسمبلی کے مانسون اجلاس میں منگل کے روز یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل منظور کرا لیا۔ اب گورنر کی منظوری ملنے کے بعد اس کا گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش میں یو سی سی نافذ ہو جائے گا۔ اس کے نافذ ہونے کے بعد جائیداد سے متعلق قانون، شادی و طلاق سے لے کر لو ان تک کے حوالے سے سخت پروویژنز کیے گئے ہیں۔
ریاستی حکومت اسے تمام شہریوں کو بغیر کسی تعصب کے مساوی حقوق دینے والا بل بتا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اشارہ دیا ہے کہ اسی ماہ ریاست میں یو سی سی نافذ ہو جائے گا، ساتھ ہی کہا کہ یکساں سول کوڈ سے سب کی بھلائی یقینی ہوگی۔ آئیے جانتے ہیں کہ یو سی سی بل کے مسودے میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ان کا لوگوں پر کیا اثر پڑے گا؟
مدھیہ پردیش حکومت کے مطابق، ریاست میں ابھی شادی، طلاق، نفقہ، وراثت، گود لینے، لو ان ریلیشن اور دیگر خاندانی معاملات کے لیے علیحدہ علیحدہ پرسنلاز نافذ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان تمام قوانین کا مجموعی مطالعہ کر کے ایک یکساں، متوازن اور عملی قانونی نظام تیار کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی مقصد سے 27 اپریل 2026 کو جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی میں ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ قانون، سماجی کارکنان اور انتظامی افسران شامل تھے۔
کمیٹی نے ریاست میں نافذ العمل مختلف پرسنل لاز کا مطالعہ کیا۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ اور گجرات جیسی ریاستوں میں اپنائے گئے ماڈل کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے عام شہریوں، سماجی و مذہبی تنظیموں، ماہرینِ قانون اور ماہرینِ تعلیم سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے۔ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ، مساوات اور دیکھ بھال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تجاویز تیار کی گئیں۔ لو ان ریلیشن کا رجسٹریشن اور ان سے جڑے حقوق و ذمہ داریوں پر بھی کمیٹی نے غور کیا۔ ساتھ ہی مجوزہ قانون کے قانونی، انتظامی اور عمل درآمد سے متعلق پہلووں کا مطالعہ کیا، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی پیچیدگی نہ ہو۔ کمیٹی کو 60 دنوں کے اندر ڈرافٹ بل اور تفصیلی رپورٹ حکومت کو سونپنے کی ذمہ داری دی گئی۔
عوامی شراکت کو یقینی بنانے کے لیے 22 مئی 2026 کو ایک ویب پورٹل شروع کیا گیا۔ اس دوران تقریباً 3.49 کروڑ ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ ویب پورٹل پر 9,58,675 تجاویز موصول ہوئیں۔ ضلع اور ریاستی سطح پر 50 سے زائد عوامی مشاورت کی نشستیں منعقد کی گئیں۔ ان نشستوں سے 10,134 سے زائد تجاویز ملیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 93.54 فیصد لوگوں نے ریاست میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی حمایت کی۔
یکساں سول کوڈ بل صرف شادی اور طلاق تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں وراثت، جائیداد کی تقسیم اور وصیت کے لیے بھی یکساں پروویژن کیے گئے ہیں۔ اس میں پروویژن ہے کہ بغیر وصیت کے انتقال ہونے پر شوہر، بیوی، بچوں اور رحم میں موجود بچے (جنین) کو بھی مساوی حق ملے گا۔ جائیداد کے لیے کسی کا قتل یا قتل کی کوشش کرنے والے شخص کو اس سے مکمل طور پر محروم کر دیا جائے گا۔ ملک کی سلامتی میں مصروف فوجیوں کو زبانی وصیت کی خصوصی سہولت دی جائے گی۔ اس سے جڑے تنازعات کی اپیل براہِ راست ہائی کورٹ میں کی جا سکے گی۔
یو سی سی بل کے اہم پروویژنز:
٭ شادی کے بعد دوسری شادی تب تک نہیں کی جا سکے گی، جب تک پہلی شادی قانونی طور پر ختم نہ ہو جائے۔
٭ صرف طلاق، طلاق، طلاق کہہ دینے سے شادی ختم نہیں ہوگی۔ طلاق تبھی مؤثر ہوگی جب قانونی طریقہ کار پورا ہوگا۔
٭ مذہب پر مبنی الگ الگ قواعد کو ہٹا کر وراثت اور وصیت کے لیے پوری ریاست میں ایک جیسا نظام نافذ ہوگا۔
٭ خواتین اور مردوں کو وراثت میں مساوی حقوق ملیں گے۔
٭ جن قوانین میں خواتین کے حقوق کم تھے، وہاں بھائی اور بہنوں کو مساوی حقوق دیے جائیں گے۔
٭ خواتین کی وقار، احترام اور خواتین کو بااختیار بنانے کو اس قانون کا اہم مقصد بتایا گیا ہے۔
٭ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور محفوظ روایتی گروہوں کو اس قانون سے باہر رکھا گیا ہے۔
٭ مذہبی تقریبات، رسومات اور روایتیں پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔
٭ شادی کی رجسٹریشن پنچایت سے لے کر شہری باڈی تک لازمی ہوگی۔
٭ ایک شریکِ حیات کے رہتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
٭ عدالت سے باہر طلاق قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
٭ بیٹوں اور بیٹیوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔
٭ خواتین کو جائیداد میں وہی حقوق ملیں گے جو مردوں کو حاصل ہیں۔
٭ فوج، فضائیہ اور بحریہ کے جوانوں کے لیے خصوصی مراعات یافتہ وصیت نافذ رہے گی، یہاں تک کہ خاص حالات میں وہ زبانی وصیت بھی کر سکیں گے۔
لو ان ریلیشن شپ کو لے کر کیا قواعد ہیں؟
٭ لو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑوں کے لیے ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔
٭ لو ان ریلیشن کے لیے مرد کی کم از کم عمر 21 سال اور عورت کی کم از کم عمر 18 سال ہوگی۔
٭ اگر کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ ہے تو وہ اس نظام کے تحت لو ان ریلیشن میں نہیں آ سکے گا۔
٭ اگر کوئی شادی شدہ شخص لو ان ریلیشن بناتا ہے تو اسے پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن