وزیر اعظم نے ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا،کہا- جیند سے ہندوستان کی ریلوے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز
جیند، 17 جولائی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہریانہ کے جیند ریلوے اسٹیشن سے ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیند، سونی پت اور ہریانہ کا نام اب بھارتی ریلوے کی تاریخ میں اسی طرح درج ہوگا، جیسے پہلی ر
PM-MODI-HYDROGEN-TRAIN


جیند، 17 جولائی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہریانہ کے جیند ریلوے اسٹیشن سے ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیند، سونی پت اور ہریانہ کا نام اب بھارتی ریلوے کی تاریخ میں اسی طرح درج ہوگا، جیسے پہلی ریل گاڑی کی وجہ سے ممبئی اور تھانے کا نام درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی یہ ہائیڈروجن ٹرین دنیا کی سب سے طاقتور اور سب سے لمبی ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر ٹرینوں میں سے ایک ہے اور یہ ’میک ان انڈیا‘ مہم کی کامیاب مثال ہے۔

جیند کے ایکلویہ اسٹیڈیم میں تقریباً 14,700 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ 19ویں صدی کی پہچان بھاپ کے انجن، 20ویں صدی کی پہچان ڈیزل اور بجلی سے چلنے والی ٹرینیں رہیں، جب کہ 21ویں صدی کی پہچان ہائیڈرجن ٹرین بننے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال دنیا کے صرف تین یا چار ممالک کے پاس ہائیڈروجن ٹرین چلانے کی صلاحیت ہے اور ہندوستان اب اس منتخب گروپ میں شامل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیند سے چلنے والی یہ 10 کوچ کی ٹرین 3,200 ہارس پاور کے پروپلشن سسٹم سے آراستہ ہے اور اس کا شمار دنیا کی طاقتور ترین ہائیڈروجن ٹرینوں میں ہوتا ہے۔ ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی پر مبنی یہ ٹرین ہائیڈروجن کو بجلی میں تبدیل کرکے چلتی ہے اوراس کو چلانے کے دوران صرف پانی کی بھاپ نکلتی ہے جس کے نتیجے میں کاربن کا اخراج صفر ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بھارتی ریلوے میں ہوئی تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ ملک کے لئے توانائی کے تحفظ کے طو ر پر ہوا ہے۔ مغربی ایشیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز، ایران اور خلیجی خطے میں جاری تنازعات کے باوجود، ہندوستان کی ریل خدمات متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 سے پہلے ریلوے کا ایک بڑا حصہ ڈیزل پر منحصر تھا، لیکن گزشتہ 12 برسوں میں ملک کے تقریباً 99 فیصد ریل نیٹ ورک کی بجلی کاری کر دی گئی ہے، جب کہ ہریانہ میں ریل نیٹ ورک کی 100 فیصد بجلی کاری ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کے بحران کے باوجود ملکی ترقی کا سفر رکا نہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہائیڈروجن ٹرینیں نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ میک ان انڈیا کی کامیابی کی علامت بھی ہیں۔ مستقبل میں، ہائیڈروجن ٹرینوں سے متعلق بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا اور نئی فیکٹریاں قائم کی جائیں گی، جس سے ہریانہ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جیند اور ہریانہ نے ترقی کی ایک نئی رفتار حاصل کی ہے اور آج کا دن ریاست کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے لوگوں پر بھی زور دیا کہ وہ صفائی کو اپنی زندگی کی اخلاقیات کا حصہ بنائیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے تقریباً 14,700 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس میں 12,470 کروڑ روپے سے زیادہ کے قومی شاہراہ کے پروجیکٹ شامل ہیں۔ انہوں نے دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے کے ہریانہ سیکشن، امبالہ-کالا امب فور لین ہائی وے، اور جیند-گوہانہ گرین فیلڈ نیشنل ہائی وے کو ملک کے نام وقف کیا اور ہانسی-بروالا براؤن فیلڈ ہائی وے پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے کروکشیتر میں ایلیویٹیڈ ریلوے ٹریک کا افتتاح کیا، بھیوانی میں پنڈت نیکی رام شرما گورنمنٹ میڈیکل کالج،نارنول کے مہارشی چیون میڈیکل کالج اور راو¿ تلارام اسپتال کی نقاب کشائی کیاور کروکشیتر میں سکھ میوزیم کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے اپنے حالیہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان ممالک کے ساتھ کھیلوں کی صنعت، کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی قومی کھیل پالیسی اور ”کھیلو انڈیا“ مہم کے ذریعے ملک میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کو بہتر مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande