والد کی قربانی نے میرے خوابوں کو اڑان دی:سونم اتم مسکر
نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے کولہاپور کی 10 میٹر ایئر رائفل شوٹر سونم اتم مسکر اب 2026 کے ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے ان کے والد کی عظیم قربانی اور خاندان کی جدوجہد کے پیچھے
شوٹنگ


نئی دہلی، 16 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے کولہاپور کی 10 میٹر ایئر رائفل شوٹر سونم اتم مسکر اب 2026 کے ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے ان کے والد کی عظیم قربانی اور خاندان کی جدوجہد کے پیچھے کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔

23 سالہ سونم ستمبر میں جاپان کے آئچی ناگویا میں ہونے والے 20 ویں ایشین گیمز میں ہندوستانی شوٹنگ ٹیم کا حصہ ہوں گی۔ شوٹنگ کے مقابلے 17 ستمبر سے 3 اکتوبر تک ہوں گے۔

سونم نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے بعد ان کا خاندان مالی بحران سے گزر رہا تھا۔ اس دوران انہیں پیشہ ورانہ شوٹنگ کے سازوسامان کی ضرورت تھی، لیکن اس کی قیمت خاندان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی۔ اس کے لئے ان کے والد اتم ماروتی مسکر نے اپنی بیٹی کے خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنی ایک جائیداد بیچ دی۔

سونم نے کہا: ایک وقت تھا جب ہمارا خاندان مالی مشکلات سے گزر رہا تھا، خاص طور پر لاک ڈاو¿ن کے دوران۔ جب مجھے پتہ چلاکہ آگے بڑھنے کے لیے اپنے شوٹنگ کے سامان کی ضرورت ہے، تو میرے والد نے ایک جائیداد بیچ دی تاکہ ہم اسے خرید سکیں۔ یہ ہمارے خاندان کے لیے ایک بڑا فیصلہ تھا، لیکن انہوں نے ہمیشہ میری حمایت کی۔

سونم نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی شوٹنگ کو پیشے کے طور پر اپنانے کے بارے میں نہیں سوچا۔ انہوں نے پہلی بار 2018 میں ممبئی کے ٹولانی کالج آف کامرس میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے شوٹ کیا۔

مجھے ہمیشہ سے کھیلوں میں دلچسپی رہی ہے۔ میں بھی شطرنج کھیلتی تھی۔ میں نے کچھ نیا کرنے کا سوچا اور شوق کے طور پر شوٹنگ شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس میں اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔

ابتدائی سفر کووڈ وبائی مرض کی وجہ سے متاثر ہوا تھا، لیکن سال 2021 سے انہوں نے کولہاپور شوٹنگ رینج میں سنجیدگی سے مشق کرنا شروع کر دی۔

سونم نے اپنے کیریئر کی سب سے خاص کامیابی نئی دہلی میں 2024 کے آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ فائنل میں جیتا گیا چاندی کا تمغہ کو قرار دیا۔

دہلی میں گھریلو ہجوم کے سامنے ورلڈ کپ فائنل میں چاندی کا تمغہ جیتنا میرے کیریئر کے سب سے یادگار لمحات میں سے ایک ہے۔ یہ تجربہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔

قاہرہ ورلڈ کپ سمیت بین الاقوامی مقابلوں میں شاندار کارکردگی کے بعد انہیں ہندوستانی ریلوے کی نمائندگی کرنے کا موقع بھی ملا۔

سونم اس وقت غیر ملکی کوچ فرنک تھامس اور ہندوستانی کوچز کی نگرانی میں ایشین گیمز کی تیاری کر رہی ہیں۔

ایشین گیمز کی تیاریاں اچھی طرح سے جاری ہیں۔ میں اپنے غیر ملکی کوچ فرنک تھامس اور ہندوستانی کوچوں سے مسلسل تربیت لے رہی ہوں۔ ہماری پوری توجہ مقابلے کے لیے بہترین طریقے سے خود کو تیار کرنے پر ہے۔

سونم نے اپنے خاندان اور تمام معاون اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

میں ان تمام لوگوں کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے اس سفر میں میری حمایت کی ہے۔ میرے خاندان نے ہر قدم پر میری مدد کی۔اس کے علاوہ او جی کیو، نیشنل رائفل ایسوسی ایشن، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس، انڈین ریلوے اور میری پوری سپورٹ اسٹاف ٹیم کا بھی شکریہ، جنہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے ایک بہتر کھلاڑی بننے میں مدد کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande