تھامس ٹیوچل ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد بھی انگلینڈ کے کوچ برقرار رہیں گے
اٹلانٹا، 16 جولائی (ہ س)۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں ارجنٹینا سے 1-2 کی شکست کے باوجود انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹیوچل نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ٹیم کے ساتھ برقرار رہیں گے اور یورو 2028 تک انگلینڈ کے کوچ کی ذمہ داری نبھائیں گے۔ انہوں نے ا
انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹیوچل


اٹلانٹا، 16 جولائی (ہ س)۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں ارجنٹینا سے 1-2 کی شکست کے باوجود انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹیوچل نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ٹیم کے ساتھ برقرار رہیں گے اور یورو 2028 تک انگلینڈ کے کوچ کی ذمہ داری نبھائیں گے۔ انہوں نے ارجنٹینا کے خلاف اپنائی گئی اپنی حکمتِ عملی کا بھی دفاع کیا۔

ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹیوچل نے فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف اے) کے ساتھ اپنے معاہدے میں توسیع کر لی تھی، جو انہیں یورو 2028 تک انگلینڈ کا ہیڈ کوچ بنائے رکھے گا۔

میچ کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ آگے بھی ٹیم کے ساتھ بنے رہیں گے، تو ٹیوچل نے کہا، ’’سب سے پہلے تو ورلڈ کپ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ہمارے سامنے تیسرے مقام کا ایک مقابلہ باقی ہے۔ بھلے ہی ہم اس میچ کا بے صبری سے انتظار نہیں کر رہے ہوں، لیکن وہ میچ کھیلنا ہے۔ اس کے بعد ہم آگے بڑھیں گے۔ میرا معاہدہ گھریلو یورو 2028 تک ہے اور میں ابھی بھی اس ٹورنامنٹ کا انتظار کر رہا ہوں، بھلے ہی اس وقت آگے دیکھنا تھوڑا مشکل ہو‘‘۔

ای ایس پی این کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ کپ سیمی فائنل میں ہار کے باوجود انگلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن کا بھروسہ ٹیوچل پر قائم ہے اور وہ یورو 2028 تک ٹیم کے ہیڈ کوچ برقرار رہیں گے۔

انگلینڈ نے انتھونی گورڈن کے گول سے 55 ویں منٹ میں برتری حاصل کی تھی، لیکن اس کے بعد ارجنٹینا نے آخری منٹوں میں واپسی کر لی۔ ٹیوچل کی کچھ تبدیلیوں کے بعد انگلینڈ کی ٹیم دفاعی ہوتی چلی گئی اور ارجنٹینا نے لگاتار دباو بنا کر دو گول داغ دیے۔

ٹیوچل نے 82 ویں منٹ میں ریس جیمز کی جگہ ڈین برن اور ڈیکلن رائس کی جگہ نیکو او رائیلی کو میدان پر اتارا۔

گورڈن کے گول سے لے کر ارجنٹینا کے فاتح گول تک انگلینڈ کے پاس صرف 12 فیصد گیند پر قبضہ رہا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے فیصلے غلط تھے، تو انہوں نے کہا، ’’نہیں، مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا۔ فٹ بال کا یہی مزاج ہے۔ جیسے ہی آپ ہارتے ہیں، آپ کی تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اگر ہم الگ فیصلے لیتے تو کیا ہوتا۔ اس لیے اس پر بحث کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ان فیصلوں کی ذمہ داری میری ہے اور تنقید بھی میں ہی قبول کروں گا‘‘۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande