ہندوستان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء میں سب سے زیادہ تعداد نیپالی طلباء کی
کاٹھمنڈو، 16 جولائی (ہ س)۔ نیپال میں ہندوستان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جغرافیائی قربت کی وجہ سے نیپالی طلباءکی بڑی تعداد کا ہندوستان آنا فطری ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں زیر تعلیم غیر ملکی
نیپالی


کاٹھمنڈو، 16 جولائی (ہ س)۔ نیپال میں ہندوستان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جغرافیائی قربت کی وجہ سے نیپالی طلباءکی بڑی تعداد کا ہندوستان آنا فطری ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں زیر تعلیم غیر ملکی طلباءمیں 73.6 فیصد انڈرگریجویٹ اور 16.8 فیصد پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ہندوستان کی وزارت تعلیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین ہائر ایجوکیشن سروے (2023تا2024) کے مطابق ملک میں کل 58,134 غیر ملکی طلباءزیر تعلیم ہیں، جن میں 24.1 فیصد نیپالی طلباءہیں۔ سروے کے مطابق 173 ممالک کے طلباءبھارت میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لیکن نیپال کے طلباءکا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ نیپالی طلباءکے بعد متحدہ عرب امارات (7 فیصد)، امریکہ (5.9 فیصد)، بنگلہ دیش (5.9 فیصد )، نائیجیریا (5.5 فیصد)، زمبابوے (4 فیصد)، بھوٹان (2.7 فیصد)، سوڈان (2.2 فیصد) اور عمان (1.7 فیصد) شامل ہیں۔

تریبھوون یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر دیپک آریہال کے مطابق نیپالی طلباءہندوستان سے قربت، اس کی نسبتا کم لاگت اور نیپال کے مقابلے میں بہتر معیار کی یونیورسٹیوں کی دستیابی کی وجہ سے ہندوستان کو ترجیح دیتے ہیں۔ نیپالی طلبا کو ہندوستان آنے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہاں تعلیم حاصل کرنے جانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی، ہندوستانی یونیورسٹیوں میں تعلیمی کیلنڈر کی موثر پابندی، بروقت کلاسیں، امتحانات اور نتائج کا اعلان بھی طلباءکو ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کا باعث بنتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر دیوراج ادھیکاری، سابق چیئرمین، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف نیپال نے کہا کہ ہندوستان ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے، آمد و رفت آسان ہے اور تعلیم کا خرچ بھی زیادہ تر طلباءکی پہنچ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی یونیورسٹیوں کے معیار پر طلباءکا اعتماد بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیپال میں تعلیمی کیلنڈر کے موثر نفاذ کی کمی کی وجہ سے طلباءبیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق نیپال میں بارہویں جماعت کے نتائج جلد آتے ہیں، لیکن گریجویشن وقت پر شروع نہیں ہوتا، جبکہ ہندوستان میں طلباءوقت پر کورس مکمل کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ادھیکاری کے مطابق ہندوستان میں انڈرگریجویٹ کورس عام طور پر تین سال کا ہوتا ہے، جبکہ نیپال میں چار سال ہونے کی وجہ سے زیادہ طلباءہندوستان کا انتخاب کرتے ہیں۔

تعلیمی مشاورتی ایسوسی ایشن کے سابق صدر پرکاش پانڈے نے کہا کہ نیپال اور ہندوستان کا طرز زندگی، خوراک اور ثقافت میں بہت مماثلت ہے اور دونوں ممالک میں تعلیم اور زندگی گزارنے کی لاگت بھی تقریبا یکساں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر طلباءصرف تعلیم کے مقصد سے ہندوستان جاتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک میں تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی تلاش کرتے ہیں۔

نیپال کی وزارت تعلیم کے مطابق، مئی 2024 سے مارچ 2026 تک ہندوستان کے لیے این او سی 14,720 جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم، این او سی حاصل کرنے والے تمام طلباءہندوستان نہیں جاتے، جبکہ بہت سے طلباءاین او سی کے بغیر بھی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستان پہنچتے ہیں۔ ہندوستان کا دورہ کرنے کے لیے ڈالر کے تبادلے کی ضرورت نہیں ہونے کی وجہ سے طلباءاین او سی لینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande