علی گڑھ چھرہ اجتماعی عصمت دری معاملہ: نابالغ بچی کے اہل خانہ سے سماجوادی پارٹی کے وفد کی ملاقات، ایک کروڑ روپے معاوضہ، سرکاری ملازمت اور فاسٹ ٹریک ٹرائل کا مطالبہ
علی گڑھ, 15 جولائی (ہ س)علی گڑھ کے چھرہ تھانہ علاقے میں 12 سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کے بعد سماجوادی پارٹی کا ایک نمائندہ وفد پیر کے روز متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچا۔ قومی صدر اکھیلیش یادو کی ہدایت پر پہنچے وفد نے اہل خانہ
سماجوادی پارٹی


علی گڑھ, 15 جولائی (ہ س)علی گڑھ کے چھرہ تھانہ علاقے میں 12 سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کے بعد سماجوادی پارٹی کا ایک نمائندہ وفد پیر کے روز متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچا۔ قومی صدر اکھیلیش یادو کی ہدایت پر پہنچے وفد نے اہل خانہ سے ملاقات کی، واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں، ان سے اظہارِ ہمدردی کیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

وفد کی قیادت رکن اسمبلی کمال اختر نے کی۔ ان کے ہمراہ سماجوادی پارٹی اقلیتی سیل اتر پردیش کے صدر شکیل ندوی، سابق رکن پارلیمنٹ وجیندر سنگھ، ضلع صدرعلی گڑھ لکشمی دھنگر، سابق رکن اسمبلی چھرہ ٹھاکر راکیش سنگھ اور علی گڑھ شہر صدر عبدالحمید گھوسی، ضلع سیکریٹری منوج یادو اور اقلیتی سیل کے ضلع صدر شہزاد علوی سمیت پارٹی کے دیگر سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں اہل خانہ سے ملاقات کے بعد رکن اسمبلی کمال اختر نے اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی متاثرہ خاندان کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت متاثرہ خاندان کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے، ان کی بازآبادکاری کو یقینی بنائے اور انہیں ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دینے کے ساتھ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت بھی فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کرائی جائے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد سخت سزا دی جا سکے اور مستقبل میں اس طرح کے سنگین جرائم کرنے والوں کے لیے یہ ایک مثال بنے۔ کمال اختر نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں پولیس کی کارروائی مکمل طور پر غیر جانبدارانہ دکھائی نہیں دے رہی، لہٰذا انتظامیہ کو بغیر کسی امتیاز کے سخت اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

اس موقع پر سماجوادی پارٹی اقلیتی سیل اتر پردیش کے صدر شکیل ندوی نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک اور معاشرے کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکھیلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کا وفد متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی اور ان کے مسائل جاننے کے لیے آیا ہے۔

شکیل ندوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد، رہائش کے لیے مکان اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے اور ملزمان کو جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے ایسے سنگین جرم کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت کا بھی مطالبہ کیا۔

سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے اور قومی صدر اکھیلیش یادو کی قیادت میں خاندان کو ہر ممکن تعاون اور انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔وفد کے ساتھ سماجوادی پارٹی کے سابق شہر صدر اججو اسحاق،خواجہ جبران،ڈاکٹر بادشاہ خان،صغیر احمد (روشنی)،ببلو ہولکر،محمد عثمان،شاہویز احمد، جسسو شیروانی، ڈی آر یادو، انعام الحق کے ساتھ سیکنڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکنان موجود رہے ۔۔۔۔۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande