حسین ساگر ایف ٹی ایل : بلڈر تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع
حیدرآباد ،15 جولائی (ہ س)۔ پردیپ کنسٹرکشن نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے جس میں گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی)کے ذریعہ جاری کردہ شوکازنوٹس کوچیلنج کیاگیاہے جس میں حسین ساگرکے قریب راج بھون روڈ، سوماجی گوڑہ پراس کے لگژری رہائشی
حسین ساگر ایف ٹی ایل : بلڈر تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع


حیدرآباد ،15 جولائی (ہ س)۔ پردیپ کنسٹرکشن نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے جس میں گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی)کے ذریعہ جاری کردہ شوکازنوٹس کوچیلنج کیاگیاہے جس میں حسین ساگرکے قریب راج بھون روڈ، سوماجی گوڑہ پراس کے لگژری رہائشی پروجیکٹ کےلیے دی گئی عمارت کی اجازت کو منسوخ کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ عرضی7جولائی کوجاری کردہ نوٹس کوچیلنج کرتی ہے اورجی ایچ ایم سی کو معاملے کے فیصلے تک کسی بھی قسم کی زبردستی کارروائی کرنے سے روکنے کی ہدایت مانگتی ہے۔ نوٹس جی ایچ ایم سی ایکٹ1955کی دفعہ 450 کے تحت جاری کیاگیا۔شہری ادارہ نے جی ایچ ایم سی ایکٹ 1955 کے سیکشن 450 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے الزام لگایاکہ ڈیویلپرنے مادی غلط بیانی اورحقائق کودبانے کے ذریعہ عمارت کی اجازت حاصل کی تھی۔ جی ایچ ایم سی نے دعویٰ کیا کہ یہ پروجیکٹ حسین ساگرکے فل ٹینک لیول (ایف ٹی ایل)حدودکے اندراوراس زمین پرآیا ہے جس کی ملکیت سنگین تنازعات میں ہے۔ تاہم، پردیپ کنسٹرکشن نے ہائی کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ حسین ساگرکے فل ٹینک لیول(ایف ٹی ایل)کاحتمی طورپرتعین نہیں کیاگیاہے اوریہ کہ نوٹس پہلے ایف ٹی ایل کی قطعی حدودکوقائم کیے بغیرجاری کیے گئے تھے۔ حیڈرا،جی ایچ ایم سی،کلکٹریٹ کے عہدیداروں نے مشترکہ معائنہ کیا۔یہ سلسلہ حیدرآباد ڈیزاسٹرریسپانس اینڈایسٹ پروٹیکشن ایجنسی (حیڈرا)، جی ایچ ایم سی اورحیدرآباد کلکٹریٹ کے عہدیداروں کے مشترکہ معائنہ کے بعدسامنے آیا،محکمہ آبپاشی کی شکایت کے بعد کہ اس نے حسین ساگرایف ٹی ایل حدود میں کسی بھی تعمیرکی اجازت نہیں دی ہے۔ کارروائی کے نتائج تک، جی ایچ ایم سی نے قبضے کے سرٹیفکیٹ(اوسی)کے لیے بلڈرکی درخواست کوالتوا میں رکھا ہے۔ منصوبے کے لیے ابھی تک کوئی اوسی جاری نہیں کیاگیا ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت، قبضے کے سرٹیفکیٹ کے بغیرعمارتوں پرقانونی طورپرقبضہ نہیں کیاجاسکتا،بجلی اورپانی جیسے یوٹیلیٹی کنکشن عام طورپرنہیں دیے جاتے۔ پردیپ کنسٹرکشنزکے ذریعے رئیل اسٹیٹ ڈیویلپرپردیپ ریڈی بدویلو کے زیرملکیت یہ پروجیکٹ،دورہائشی ٹاورزپر مشتمل ہے جس میں دو تہہ خانے، اسٹیلٹ پارکنگ،17بالائی منزلیں اورایک کلب ہاؤس ہے۔ حسین ساگر کے قریب تقریباًدوایکڑپرتین اورچاربیڈ روم والے اپارٹمنٹس کی پیشکش کرنے والی لگژری ڈیولپمنٹ کے طورپرمارکیٹ کیاگیا یہ پروجیکٹ اس وقت تکمیل کے قریب تھا جب تنازعہ کھڑاہوا۔ جی ایچ ایم سی کی کارروائی نے گھریلو خریداروں کو بھی غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیاہے،کیونکہ عمارت کی اجازت کی مجوزہ منسوخی سے ملکیت میں تاخیرہوسکتی ہے اورپروجیکٹ میں بک کیے گئے فلیٹس کی قانونی حیثیت ختم ہوسکتی ہے۔ توقع ہے کہ ہائی کورٹ اس درخواست کی مناسب وقت پرسماعت کرے گی۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande