
رائے گڑھ، 15 جولائی (ہ س) مہاراشٹر حکومت کی مکھیہ منترے ماجھی لاڑکی بہن یوجنا کے تحت رائے گڑھ ضلع کی تقریباً 50 ہزار خواتین کے نام مستحقین کی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ ای۔کے وائی سی مکمل نہ ہونا، مقررہ عمر کی شرط پوری نہ کرنا اور دیگر سرکاری اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنا ان خواتین کو نااہل قرار دیے جانے کی اہم وجوہات بتائی گئی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اسکیم کے فائدے سے محروم رہ جانے والی خواتین میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
خواتین و اطفال بہبود محکمہ کی جانب سے سال 2024 میں شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت اہل خواتین کو ہر ماہ 1500 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ رائے گڑھ ضلع میں ابتدا میں تقریباً 6 لاکھ 25 ہزار خواتین کو اس اسکیم کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ مستحقین کی اہلیت کی تصدیق کے لیے حکومت نے ای۔کے وائی سی اور دستاویزات کی جانچ کی خصوصی مہم چلائی۔ اس دوران ضلع میں 63 ہزار 782 درخواستوں کی جانچ کی گئی۔ تفتیش کے دوران بڑی تعداد میں مستحقین کی ای۔کے وائی سی نامکمل یا تکنیکی خامیوں پر مبنی پائی گئی، جس کے بعد مارچ میں 22 ہزار 375 درخواستوں کی دوبارہ جانچ کی گئی۔
دوبارہ تصدیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بعض خواتین نمو شیتکری یوجنا، سنجے گاندھی نرادھار یوجنا اور دیگر سرکاری اسکیموں سے بھی فائدہ حاصل کر رہی تھیں، جبکہ کچھ خواتین مقررہ عمر کی حد پر پوری نہیں اترتی تھیں۔ ان تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 50 ہزار خواتین کو اسکیم کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ خواتین و اطفال بہبود محکمہ کے مطابق اس وقت رائے گڑھ ضلع کی تقریباً 5 لاکھ 76 ہزار خواتین وزیر اعلیٰ ماجھی لاڈکی بہن یوجنا سے استفادہ کر رہی ہیں۔ مستحقین کی فہرست میں بڑے پیمانے پر کی گئی اس تبدیلی کے بعد ضلع بھر میں اس فیصلے پر وسیع پیمانے پر بحث جاری ہے اور متاثرہ خواتین کی جانب سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے