
نئی دہلی، 15 جولائی ( ہ س ) : تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے مغربی ضلع میں جنکپوری پولیس نے شادی کے بہانے جنسی زیادتی کی ایف آئی آر درج ہونے کے 11 دن کے اندر عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ پولیس نے ملزم آصف عرف ہنی کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔ معاملہ کی تحقیقات سائنسی اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے، جبکہ موبائل فون کی فارنسک جانچ اور تصدیق شدہ کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) رپورٹ کا انتظار ہے۔
مغربی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ہریشور سوامی نے بدھ کو بتایا کہ شکایت میں متاثرہ نے الزام لگایا کہ ملزم نے اپنا مذہب چھپاتے ہوئے اس سے شادی کے جھوٹے وعدے کیے۔ اس دوران اس نے جسمانی تعلقات استوار کیے لیکن بعد میں شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم نے متاثرہ پر حملہ کیا، اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی اور سوشل میڈیا پر نجی تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی۔
شکایت کی بنیاد پر، جنکپوری پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ تفتیش کے دوران متاثرہ کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا گیا اورمجسٹریٹ کے سامنے بی این ایس ایس کی دفعہ 183 کے تحت اس کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس کا موبائل فون ضبط کر لیا ہے۔ اسے فارنسک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے جائے وقوع کا معائنہ کیا او دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد اکٹھے کیے۔ اس کے علاوہ، فون کال کی تفصیلات کے ریکارڈ اور ملزم اور متاثرہ کے مقام کا تجزیہ کیا گیا، جس سے دونوں کے درمیان مسلسل رابطے کی تصدیق ہوئی۔ ملزم کی کام کی جگہ سے حاضری کے ریکارڈ کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت پر پیشہ ورانہ اور سائنسی تحقیقات کی وجہ سے کافی ثبوت اکٹھا کیے جا سکے، جس کی بنیاد پر ایف آئی آر درج ہونے کے 11 دن کے اندر عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی گئی۔ ملزم اس وقت عدالتی حراست میں ہے۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ موبائل فونز کی فارنسک رپورٹس اور تصدیق شدہ سی ڈی آر حاصل کرنے کے بعد انہیں ضمنی چارج شیٹ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ معاملہ میں سامنے آنے والے مزید نئے شواہد کی بنیاد پر تفتیش جاری رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد