
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) آج سے نافذ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سماجی تحفظ کا معاہدہ، جسے ڈبل کنٹری بیوشن ایگریمنٹ (ڈی سی سی ) کے نام سے جانا جاتا ہے، بھی نافذالعمل ہو گیا۔ اس سے برطانیہ میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت اور مسابقت کو فروغ ملے گا۔
ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) پر 24 جولائی 2025 کو دستخط کیے گئے تھے۔ یہ تاریخی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ معاہدہ ہندوستان کی تقریباً 99 فیصد برآمدات کے لیے برطانوی مارکیٹ تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرے گا۔
اقتصادی ماہرین اسے حالیہ برسوں میں ہندوستان کے سب سے بڑے آزادانہ تجارتی معاہدوں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کسانوں، کارکنوں، بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای )، برآمد کنندگان اور سروس سیکٹر کو زبردست فوائد حاصل ہوں گے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے دور میں نافذ ہونے والا یہ چھٹا آزادانہ تجارتی معاہدہ ہے۔ اس سے قبل، ہندوستان نے ماریشس، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ای ایف ٹی اے (یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن) اور عمان کے ساتھ اس طرح کے معاہدوں کو نافذ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان سی ای ٹی اے کے نفاذ سے ہندوستانی صنعتوں کی عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا اور کسانوں، صنعتوں، خواتین کاروباریوں، اسٹارٹ اپس اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع فراہم ہوں گے۔ یہ معاہدہ ہندوستان کی تقریباً 99فیصد برآمدات کے لیے برطانوی مارکیٹ تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، برطانیہ سے آنے والی بہت سی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کم کی جائے گی، جس سے قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد