تمام مذاہب کے لوگوں کوساتھ لے کر چلنے سے ہی ملک ترقی کرپائے گا، پروفیسر شاہد اختر
بات چیت بند ہونے سے غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ، علمائ ، دانشوران اور سول سوسائٹی آگے آکر لوگوں کی رہنمائی کریں : پروفیسر شاہد اختر نئی دہلی ،12جولائی(ہ س)۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے رکن پروفیسر شاہد اختر نے ملک کے موجودہ حالت کے پیش
تمام مذاہب کے لوگوں کوساتھ لے کر چلنے سے ہی ملک ترقی کرپائے گا


بات چیت بند ہونے سے غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ، علمائ ، دانشوران اور سول سوسائٹی آگے آکر لوگوں کی رہنمائی کریں : پروفیسر شاہد اختر نئی دہلی ،12جولائی(ہ س)۔

قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے رکن پروفیسر شاہد اختر نے ملک کے موجودہ حالت کے پیش نظر گفت وشنید کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ تمام مسائل صرف بات چیت اور تبادلہ خیال سے ہی حل کئے جاسکتے ہیں ۔اسی لیے تنظیموں کے ساتھ بات چیت کی شروعات کی گئی ۔ انھوںنے کہاکہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی ملک ترقی کرپائے گا کیونکہ ہمارے ملک کی خوبصورتی اتحاد و تنوع میں ہے ،ہمیں اپنے تہذیب کو برقر اررکھنا ہوگی۔ اس تعلق سے میں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،اتحاد ، بات چیت اور خامیوںکا ذکر کیا ہے۔ یہ ملک تمام مذاہب کی توقیر ہی نہیں بلکہ سب کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔

انھوںنے اس بات پر بار بار توجہ دلائی کہ ہمیں اپنے اندر کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا اور شر پسندوں کو شکست ہم صرف تعلیم ، اخلاقیت اور اسلام کی پاسداری کرکے ہی دے سکتے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ اقوام میں بات چیت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا کردی گئی ہیں، اب ان کو دور کون کرے گا، اگر ہم تعلیم یافتہ ہیں تو تعلیم کے بعد خامیوں کو دور بھی کرسکتے ہیں۔ ایسے میں علمائ حضرات ، دانشوران اور سول سوسائٹی کو اس معاملہ میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوںنے کہاکہ دینی تعلیم سے اچھا انسان بنا جاسکتا ہے اور دنیاوی تعلیم سے ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں لہذا دونوں ہی تعلیم ہمارے لیے لازمی ہیں۔ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ اس ملک میں امن و امان اور بھائی چارہ قائم رہے۔

انھوںنے کہاکہ دراصل بات چیت کا دروازہ بند ہونے سے مسائل پیدا ہوگئے ،پوری دنیا میں مسلم اپنے کردار سے پہنچانے جاتے ہیں ، حب الوطنی نصف ایمان ہے ، اسلام تو یہ بھی کہتا ہے کہ تمہار ا کوئی پڑوسی بھوکا نہ سوئے ، پیغمبر اسلام ﷺ نے یہاں تک فرمایا دیا کہ اگر صلح کرنے میں تمہاری عز ت کم ہوتی ہے توقیامت کے دن وہ عزت مجھ سے لے لینا اور صلح کرلینا۔ آپ ﷺ سارے عالم کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اور رب تعالی پورے عالم کا رب ہے ۔اس دین کی خوبصورتی یہ ہے کہ جو بھی سچے دل سے اس کا مطالعہ کرتا ہے تو صاحب ایمان ہوجاتا ہے اور یہ میں نے دیکھا بھی ہے۔ جس دین کی یہ شان و عظمت ہو ، وہ قوم پیچھے کیسے رہ سکتی ہے ، وہ قوم پسماندہ کیسے رہ سکتی ہے۔ ظاہر سی با ت ہے کہ کچھ خامیاں ہمارے اندر ضرور ہیں اور ہم نے دین سے دوری بنالی ہے۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ رب نے مجھے مسلم بنایا اور اس ملک میں پیدا کیا، اب میر ا فرض ہے کہ اس عظیم ملک کی خدمت کروں اور ضرورت پڑنے تو قربانی کے لیے تیار رہوں۔ انھوںنے کہاکہ مسلمانوں کو کسی ایک پارٹی کا بندھوا مزدور بن کر نہیں رہنا چاہئے بلکہ اپنی سیاسی حیثیت کو بھی مضبوط کرنا چاہئے۔ جب ہماری سیاسی حیثیت مضبوط ہوگی تو ہماری اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔ لہذا میری علمائ ، دانشوروران اور سول سوسائٹی سے سمت اپیل ہے کہ وہ ا س سمت لوگوں کی رہنمائی کریں ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande