
حیدرآباد ،12 جولائی (ہ س)۔
بھارت راشٹراسمیتی(بی آرایس) کے کارگزارصدرکے ٹی راماراؤ(کے ٹی آر)نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ اقتدار میں آنے کا یقین ہے تو وہ بلدیاتی انتخابات، منحرف ارکان اسمبلی کی خالی کردہ نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائیں یا پھر اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کا سامنا کریں۔
تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ خود وزیر اعلیٰ کی جانب سے کرائے گئے ایک اندرونی سروے میں بھی بی آرایس کواسمبلی کی 78 نشستیں جیتنے کے امکانات بتائےگئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی کادوبارہ اقتدارمیں آنے کاخواب محض ایکخیالی پلاؤ”ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو چیلنج کیاکہ اگرایساکوئی سروے موجودنہیں ہے تووہ بھگوان رام کے نام پرحلف اٹھا کراس کی تردید کریں۔ آبپاشی کے معاملے پرکانگریس حکومت کوسخت تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کے ٹی آرنے الزام لگایا کہ گوداوری ندی میں کنے پلی کے مقام پروافرپانی موجودہونے کے باوجودوزیراعلیٰ جان بوجھ کرتلنگانہ کو خشک سالی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ بی آرایس حکومت اورکالیشورم لفٹ ایریگیشن اسکیم سے سیاسی مخالفت کی وجہ سے موجودہ حکومت کنے پلی پمپ ہاؤس کے ذریعے دستیاب پانی سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ کے ٹی آرنے دعویٰ کیاکہ روزانہ ایک ٹی ایم سی(ہزارملین اسکوائرفٹ) پانی اٹھایاجاسکتاہے، جس سے گوداوری طاس کے ہزاروں کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریٹائرڈ انجینئروں نے بھی حکومت کودستیاب پانی استعمال کرنے کا مشورہ دیاہے، جبکہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش پٹّی سیماپروجیکٹ کے ذریعے کامیابی کے ساتھ پانی اٹھارہی ہے۔رائتوبندھواسکیم کی رقم کی ادائیگی میں تاخیرکررہی ہے، بیجوں کی بروقت خریداری میں ناکام رہی ہے اورکسانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے خبردارکیاکہ اگرحکومت نے فوری طورپرپمپ ہاؤسزکوفعال کرکے گوداوری کے پانی کوآبپاشی کے لیے استعمال نہ کیاتوتلنگانہ بھرکے کسان احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق