
نئی دہلی، 10جولائی(ہ س)۔
عام آدمی پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے قائد اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ملک بھر میں عیسائی برادری، پادریوں، گرجا گھروں اور عیسائی اداروں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔ انہوں نے خط میں سوال کیا کہ مودی جی! کیا اس ملک میں عیسائی مذہب کے ماننے والوں کو رہنے کا حق نہیں ہے؟ اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، دہلی، چھتیس گڑھ اور اب مغربی بنگال تک ہر جگہ عیسائی برادری کے خلاف پرتشدد حملے ہو رہے ہیں، گرجا گھروں کو توڑا جا رہا ہے۔ آپ اس پر کچھ بولتے کیوں نہیں؟ کیا ان واقعات میں ملوث غنڈوں کو آپ کی خاموش حمایت حاصل ہے؟ سنجے سنگھ نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی کے تحفظ اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔اپنے خط میں سنجے سنگھ نے لکھا کہ وہ ملک بھر میں گرجا گھروں، عیسائی اداروں، پادریوں اور عیسائی برادری کے افراد پر ہونے والے تشویشناک اور مسلسل بڑھتے ہوئے حملوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، ہریانہ، دہلی اور دیگر ریاستوں سے سامنے آنے والے واقعات محض چند الگ تھلگ تشدد کے واقعات نہیں، بلکہ یہ خوف و ہراس پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے، پُرامن عبادت میں رکاوٹ ڈالنے اور مذہب تبدیل کرانے کے الزامات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ مغربی بنگال کے حالیہ واقعات انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سونارپور، مشرقی بردھمان، مغربی مدنی پور اور کھڑگ پور میں گرجا گھروں اور عیسائی اجتماعات پر بار بار حملے کیے گئے۔ سونارپور میں زیرِ تعمیر چرچ پر ایک بڑے ہجوم نے حملہ کیا، چھت پر نصب صلیب کو توڑ دیا، عبادت کرنے والوں کو دھمکیاں دیں اور عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں مسلسل پیش آنے والے ان واقعات کو محض قانون و انتظام کا معمولی مسئلہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایسے ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں شدت پسند عناصر خود کو گرجا گھروں پر حملے، عبادت گزاروں کو ڈرانے دھمکانے، عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کرنے اور مذہب تبدیلی کے الزامات لگانے میں بے خوف محسوس کر رہے ہیں۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو قانون کے سامنے مساوات اور اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اس پر آزادانہ طور پر چلنے کا حق دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25 اور 26 محض رسمی وعدے نہیں بلکہ قابلِ نفاذآئینی ضمانتیں ہیں۔ عبادت گاہوں پر ہر حملہ اور شہریوں کو اپنے مذہب پر پُرامن طریقے سے عمل کرنے سے روکنے کی ہر کوشش ان آئینی اقدار پر براہِ راست حملہ ہے۔انہوں نے وزیرِ اعظم سے کہا کہ آپ کی حکومت مسلسل ڈبل انجن سرکار کو بہتر حکمرانی، مضبوط قانون و انتظام اور ہر شہری کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ آپ کی حکومت کے دور میں عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر حملے مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے عناصر زیادہ اعتماد کے ساتھ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے حملوں کے باوجود مرکزی حکومت کی خاموشی یہ تاثر دیتی ہے کہ اقلیتوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کو کسی کارروائی کا خوف نہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ بھارت کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے آپ کی آئینی ذمہ داری مذہب، ذات یا سیاسی نظریے سے قطع نظر ہر شہری کے تحفظ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کا منصب کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ تمام شہریوں کے لیے یکساں تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ ملک آپ سے توقع رکھتا ہے کہ آپ تشدد کی واضح مذمت کریں، جوابدہی کو یقینی بنائیں اور جمہوریہ ہند کے سیکولر کردار کا تحفظ کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais