
مشاعرے میں ملک کے ممتاز شعراءکی شرکت، اردو ادب اور شعری روایت کو خراجِ تحسیننئی دہلی،07جون(ہ س)۔
اردو ادب اور شعری روایت کے فروغ کے لیے منعقد ایک شاندار اور یادگار ادبی تقریب میں معروف شاعر و ادیب طالب رامپوری کو ”گرو سمان“ سے نوازا گیا، جبکہ ممتاز شاعر برہم بھردواج ’حشمت‘ کی دو شعری کتابوں کی پروقار رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی۔ اس ادبی تقریب میں ملک بھر کے معروف شعراء، ادبائ، دانشوروں اور ادب نواز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب کی صدارت سینئر ادیب و شاعر شری دکشت ڈنکوری نے کی، جبکہ کتابوں کا تعارف اور خصوصی خطبہ جناب شفیع ایوب نے پیش کیا۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب معین شاداب نے نہایت خوش اسلوبی اور عمدگی کے ساتھ انجام دیے۔ مقررین نے طالب رامپوری کی ادبی خدمات، اردو زبان و ادب کے فروغ میں ان کے نمایاں کردار اور نئی نسل کی تربیت و رہنمائی میں ان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہلِ قلم کا احترام دراصل علم و ادب کا احترام ہے۔
تقریب میں جناب عقیل احمد، جناب منیر ہمدم، جناب ناصر عزیز اور ایڈوکیٹ رئیس فاروقی بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ رئیس فاروقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو ادب ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت ہے اور اسے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو زبان اور ادب سے جوڑنے کے لیے ادبی تقریبات، مشاعروں اور کتابوں کی اشاعت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان و ادب کسی بھی قوم کی شناخت ہوتے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔مقررین نے ایڈوکیٹ رئیس فاروقی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادبی تقریب کے انعقاد اور کامیابی میں ان کا اہم اور مو¿ثر کردار رہا ہے۔ ان کی سرپرستی، رہنمائی اور تعاون کی بدولت یہ تقریب نہایت کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی، جس نے اردو ادب کے فروغ میں ایک مثبت اضافہ کیا ہے۔
اس موقع پر ممتاز شاعر برہم بھردواج ’حشمت‘ کی دو شعری کتابوں کی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔ مقررین نے کتابوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں عصری شعور، انسانی جذبات، تہذیبی اقدار، سماجی مسائل اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج موجود ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتابیں اردو ادب کے قارئین اور ناقدین میں مقبولیت حاصل کریں گی اور ادبی حلقوں میں سنجیدہ بحث و گفتگو کا موضوع بنیں گی۔تقریب کا اہم حصہ ایک عظیم الشان مشاعرہ تھا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نامور شعرائ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں نعمان شوق، سریندر شجر، رو¿ف رمیش، جاوید قمر، شفیع ایوب، خالد اخلاق، شاکر دہلوی، انس فیضی، سرفراز فراز، راجیو سنگھل، منوج ابودھ، خرم نور، اسلم بیتاب، شلیش اگروال، مہدی رمان، محترمہ سپنا احساس اور محترمہ گرگی کوش سمیت متعدد شعرائ نے شرکت کی۔ شعرائ کے خوبصورت اور معیاری کلام کو سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا اور محفل دیر تک شعر و ادب کے رنگ میں ڈوبی رہی۔مقررین نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ اردو زبان محبت، رواداری، تہذیب اور مشترکہ ثقافت کی نمائندہ زبان ہے۔ اس کے فروغ اور تحفظ کے لیے ادبی سرگرمیوں کا تسلسل بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاعرے، ادبی نشستیں اور کتابوں کی اشاعت نہ صرف زبان و ادب کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ معاشرے میں فکری بیداری، ثقافتی ہم آہنگی اور تخلیقی شعور کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
پروگرام کے کامیاب انعقاد میں جناب گولڈی غضب اور جناب احترام صدیقی نے بطور کنوینر اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ اختتام پر تمام مہمانوں، شعرائ ، ادبائ اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اردو ادب کے فروغ، اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور ادبی روایتوں کے استحکام کے لیے آئندہ بھی ایسی معیاری اور یادگار تقریبات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais