سورہ جمعہ کا درسِ قرآن، قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی تلقین
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام آمنہ مسجد کڑکڑڈوما کورٹ میںہفتہ واری اجتماعنئی دہلی،07جون(ہ س)۔ آمنہ مسجد، کڑکڑڈوما کورٹ میں جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی باشندوں، نمازیوں او
سورہ جمعہ کا درسِ قرآن، قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی تلقین


جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام آمنہ مسجد کڑکڑڈوما کورٹ میںہفتہ واری اجتماعنئی دہلی،07جون(ہ س)۔ آمنہ مسجد، کڑکڑڈوما کورٹ میں جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی باشندوں، نمازیوں اور قرآن فہمی سے شغف رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام میں فلاح الدین فلاحی نے سورہ جمعہ کی تلاوت، ترجمہ اور مختصر تفسیر پیش کرتے ہوئے حاضرین کو اس عظیم سورت کے بنیادی مضامین اور اس کے عملی تقاضوں سے روشناس کرایا۔

فلاح الدین فلاحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سورہ جمعہ دراصل ایک ایسی جامع سورت ہے جو مسلمانوں کو علم، عمل، ذکرِ الٰہی، دعوتِ دین اور اجتماعی زندگی کی اہمیت کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی عظمت کے بیان سے ہوتا ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا میں مصروف ہے۔ انسان کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے خالق کی بندگی اختیار کرے اور اپنی زندگی کو اس کی ہدایات کے مطابق ڈھالے۔انہوں نے مزید کہا کہ سورہجمعہ میں رسول اکرم کی بعثت کا مقصد بھی واضح کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ کی آیات سناتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط کرے، اس کے پیغام کو سمجھے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس کی تعلیمات کو نافذ کرے۔ انہوں نے کہا کہ محض قرآن کی تلاوت کافی نہیں بلکہ اس کے احکامات کو عملی زندگی کا حصہ بنانا بھی ضروری ہے۔درسِ قرآن کے دوران فلاح الدین فلاحی نے سورہ جمعہ میں بنی اسرائیل کی مثال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علم اور ہدایت کی نعمت ملنے کے باوجود اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ علم کے ساتھ عمل اور کردار کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگیوں میں دیانت داری، عدل، اخوت، خدمتِ خلق اور تقویٰ کو فروغ دیں اور معاشرے میں خیر و بھلائی کے پیغام کو عام کریں۔انہوں نے جمعہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام میں جمعہ کا دن خصوصی فضیلت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان دی جائے تو وہ دنیاوی مشاغل کو چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ ایک مومن کی زندگی میں دین اور آخرت کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مادہ پرستی اور دنیا کی بے جا مصروفیات نے انسان کو اپنے رب سے دور کر دیا ہے، ایسے میں قرآن کے پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔شرکاءنے درسِ قرآن کو نہایت مفید، فکر انگیز اور ایمان افروز قرار دیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے کارکنان، رکن جماعت محمد سالم ،رکن جماعت واثق امام سمیت مقامی ذمہ داران اور مسجد کے نمازی موجود تھے۔ اجتماع کے اختتام پرامام مسجد مولانا حفظ الرحمٰن نے امتِ مسلمہ کی سربلندی، ملک میں امن و امان، باہمی بھائی چارے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا کی۔ حاضرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قرآن مجید کے پیغام کوسمجھیں گے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande