ایران کے ایٹمی پروگرام کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں: آئی اے ای اے
ویانا،05جون(ہ س)۔بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے اعلان کیا ہے کہ وہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے علاوہ ایران کی بیشتر جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے سے اب بھی قاصر ہے اور اس سے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کی مکمل تصدیق کرنے کی اس
ایران کے ایٹمی پروگرام کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں: آئی اے ای اے


ویانا،05جون(ہ س)۔بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے اعلان کیا ہے کہ وہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے علاوہ ایران کی بیشتر جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے سے اب بھی قاصر ہے اور اس سے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کی مکمل تصدیق کرنے کی اس کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔فرانس پریس کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے جمعرات کو کہا کہ اسے ایران میں غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں اور مواد کے ممکنہ وجود کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ بعض مقامات اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات میں مسلسل خلاءموجود ہے۔آئی اے ای اے نے مزید کہا کہ وہ معائنے اور جوہری تنصیبات تک رسائی پر عائد پابندیوں کے سائے میں ایران کے پاس موجود اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے حجم اور جگہ کی تصدیق کرنے میں اپنی نااہلی پر بڑھتی ہوئی تشویش محسوس کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایجنسی یہ تسلیم کرتی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور مقامات پر فوجی حملوں نے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کی ہے لیکن بغیر کسی تاخیر کے ایران میں تصدیقی سرگرمیاں انجام دینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایجنسی کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران اور بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں کے درمیان تعلقات بڑھتی ہوئی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کے معائنے اور نگرانی کے طریقہ کار پر مسلسل جاری تنازعات ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے ) نے پچھلی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تعاون میں کمی اور جوہری مقامات اور تنصیبات تک رسائی کی پابندیوں کے نتیجے میں حالیہ برسوں کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کی نگرانی کرنے کی اس کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی تصدیق کا معاملہ ایران اور ایجنسی کے درمیان سب سے نمایاں حل طلب مسائل میں سے ایک ہے کیونکہ ایجنسی کا خیال ہے کہ اصل مقدار اور ذخیرہ کرنے کے مقامات کے بارے میں مسلسل ابہام ایرانی جوہری سرگرمیوں کی نوعیت کا درست جائزہ پیش کرنے کی اس کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جوہری مفاہمت کے راستے کو بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کی جانب سے شفافیت کی سطح بڑھانے اور بین الاقوامی انسپکٹرز کے ساتھ تعاون کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ اسی دوران تہران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande