
لندن، 05 جون ( ہ س)۔باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ برطانیہ اور فرانس امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری مائنز سے پاک کرنے کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی مشن کی قیادت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق لندن اور پیرس نے اس مشن کے بنیادی منصوبوں کو مکمل کر لیا ہے۔ نیوز ایجنسی ’’ بلومبرگ ‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے بارے میں توقع ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمت تک پہنچنے کے چند دنوں کے اندر شروع ہو جائے گا۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے ذریعے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خلیج میں حالیہ تصادم کے بعد وہاں جہاز رانی کی آمد و رفت میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ دیکھی گئی ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ متعدد ملکوں کے فوجی منصوبہ ساز مائنز کو ہٹانے کے آپریشنز میں شرکت کے لیے کوآرڈینیشن کے اعلیٰ مراحل تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ وہ مائنز ہیں جنہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے کے کچھ حصوں میں بچھایا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اس مشن میں 15 ملکوں کا اتحاد شامل ہوگا جنہوں نے پہلے ہی فوجی دستے اور ساز و سامان فراہم کرنے کا عہد کر رکھا ہے بشرطیکہ کچھ ممالک تجارتی شپنگ کمپنیوں کو یقین دہانی کرانے اور جہاز رانی کی آمد و رفت پر اعتماد بحال کرنے کے مقصد سے آپریشن شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد اس میں شامل ہوں۔ ذرائع نے بتایا کہ لاجسٹک تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ تاہم کچھ اضافی ساز و سامان، خاص طور پر خصوصی معاون جہازوں کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔انہی ذرائع کے مطابق دستوں کی تعیناتی اس وقت تک شروع نہیں ہوگی جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے نہ پا جائے جو تجارتی جہاز رانی کی آزادی کی مکمل بحالی اور آبنائے میں فوجی یونٹوں کے کام کے لیے ایک محفوظ ماحول کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکی افواج جہازوں کی آمد و رفت کو خطرے میں ڈالنے والی زیادہ تر بحری مائنز کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ کے سامنے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے کے وسیع علاقوں میں مائنز بچھائی ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے دشمنی کے خاتمے کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرتے ہی آبنائے کو فوراً دوبارہ کھول دیا جائے گا تاہم مذاکرات کو ابھی تک مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کے جاری رہنے کے سائے میں بات چیت میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔بڑھتا ہوا یورپی کرداریورپی تیاریاں بحران کے خاتمے کے بعد خلیج کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں لندن اور پیرس کے ایک بڑا کردار ادا کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہیں، خاص طور پر حالیہ جنگ کے انتظام کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ اور امریکہ کے یورپی اتحادیوں کے درمیان باہمی تنقید کے تناظر میں یورپی تیاریاں اہم سمجھی جارہی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اس مشن پر امریکہ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد مائنز کو ہٹانے اور تجارتی جہازوں کو محفوظ بنانے یا ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ حفاظتی دستہ بھیجنے کی اضافی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس اس مشن کے آپریشنل پہلوؤں کے بارے میں تہران کے ساتھ رابطے کے چینلز کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ایران نے مائنز ہٹانے کے آپریشنز خود کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن دونوں یورپی دارالحکومتوں کا خیال ہے کہ ایرانی صلاحیتیں مطلوبہ رفتار سے مشن کو مکمل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ یہ صورت حال انہیں اس آپریشن کی براہ راست نگرانی کو ترجیح دینے پر ابھار رہا ہے۔تیاریوں کے سلسلے میں برطانوی رائل نیوی نے جبرالٹر سے اس علاقے کی طرف سپورٹ جہاز ’’ آر ایف اے لیمے بے ‘‘ روانہ کیا ہے۔ یہ بحری جہاز بحری مائنز کا پتہ لگانے اور ان سے نمٹنے کے لیے جدید اور بغیر پائلٹ کے چلنے والے سسٹمز سے لیس ہے۔ اس مشن کی کامیابی عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام بحال کرنے اور دنیا کی اہم ترین سٹریٹجک گزرگاہوں میں سے ایک کے ذریعے تیل کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوگی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan