
نئی دہلی، 30جون (ہ س)۔ تیل اور گیس کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والی تیجا انجینئرنگ انڈسٹریز کا 37.36 کروڑ کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 2جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 3 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 6 جولائی کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 7 جولائی کو درج ہو سکتے ہیں۔ آئی پی او کو پہلے دن سہ پہر 3 بجے تک صرف ایک فیصد سبسکرائب کیا گیا۔
آئی پی او کی بولی قیمت 220 روپے فی حصص ہے، جبکہ لاٹ سائز 600 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کاروں کو دو لاٹس یعنی 1,200 حصص کے لیے بولی لگانی ہوگی، جس کے لیے انہیں 264,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 16.98 لاکھ نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔اس آئی پی او میں 47.49 فیصد حصہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ کیا گیا ہے۔ اسی طرح 47.49 فیصد حصہ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے علاوہ، 5.02 فیصد مارکیٹمیکر کے لیے مخصوص ہے۔ انٹرایکٹو فنانشل سروسز لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ بی این راٹھی سیکیورٹیز لمیٹڈ اور ایس وی سی ایم سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے مارکیٹ میکرس ہیں۔
تیجا انجینئرنگ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں کمپنی کا خالص منافع 1.27 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 2.16 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 4.02 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا خالص منافع 4کروڑ روپے تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2022تا2023 میں24.58 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 31.62 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 55.23کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 54.32کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2022تا2023 کے اختتام پر، کمپنی پر 6.74 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 7.09 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں کم ہو کر 12.85 کروڑ روپے رہ گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں یعنی اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک کی بات کریں تو کمپنی پر قرض کا بوجھ کم ہو کر 17.36کروڑ روپے رہ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ3.80کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر6.65 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024تا2025 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 12.61کروڑ روپے رہ گئی۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026کے پہلے نو مہینوں یعنی اپریل سے 1 3دسمبر2025تک یہ 16.63 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں اس محاذ پر بھی اتار چڑھاو¿ کے باوجود کمپنی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں، یہ2.70 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 2023تا2024 میں گھٹ کر2.23 کروڑ روپے رہ گیا۔ اگلے مالی سال 2024تا2025 میں، کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر 7.95 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، یہ 11.96 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2022تا2023 میں2.79 کروڑ روپے رہی، جو بڑھ کر 2023تا2024 میں3.74 کروڑ روپے اور 2024تا2025 میں 6.86 کروڑ روپے ہو گئی۔ ساتھ ہی پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں یعنی اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک یہ 7.07 کروڑ کی سطح پر تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی