
نئی دہلی، 31جون (ہ س)۔ سامان کی نقل و حرکت اور ویئرہاوس کی کارروائیوں میں مصروف سیمیکس ریسورسز لمیٹڈ کا 19.74 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 2جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 03 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 06 جولائی کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 07 جولائی کو درج ہونے کا امکان ہے۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا ہے۔ دوپہر 12 بجے تک آئی پی او کو مکمل طور پر سبسکرائب کر لیا گیا۔ فی الحال، آئی پی او کو دوپہر 2 بج کر 50 منٹ تک 1.62 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 134 روپے سے 141 روپے فی حصص کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 1,000 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کاروں کو دو لاٹس یعنی 2,000 حصص کے لیے بولی لگانی ہوگی، جس کے لیے انہیں 282,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 14 لاکھ نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔
آئی پی او کا صرف پانچ فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مزید برآں، 42.86 فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے اور 47.14 فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میکر کے لیے پانچ فیصد مختص کیا گیا ہے۔ ویلتھ مائن نیٹ ورکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو اس ایشو کے لیے بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کیمیو کارپوریٹ سروسز لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سن فلاور بروکنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی مارکیٹ میکرکمپنی ہے۔
سیمیکس ریسورسز کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2022سے2023 میں کمپنی کا خالص منافع 79 لاکھ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023سے2024 میں بڑھ کر 1.43 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024سے2025 میں بڑھ کر 2.24 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا خالص منافع2.24 کروڑ تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022سے2023 میں، اس نے 11.38کروڑروپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023سے2024 میں بڑھ کر 11.41 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2024سے2025 میں بڑھ کر14.46 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 12.43 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2022تا2023 کے اختتام پر کمپنی پر7.58کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2023سے2024 میں بڑھ کر 10.94 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024سے2025 میں کم ہو کر9.68کروڑ روپے رہ گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں یعنی اپریل سے 1 3تک کمپنی پر قرض کا بوجھ کم ہو کر 13.13 کروڑ روپے رہ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022سے2023 میں یہ 2.05کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023سے2024 میں بڑھ کر 3.48 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2024سے2025 میں5.72 کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔ ساتھ ہی پچھلے مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں میں یعنی اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک یہ 7.96کروڑ کی سطح پر پہنچ گیا۔
کمپنی کے رزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں اس محاذ پر بھی اتار چڑھاو¿ کے باوجود کمپنی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی سال 2022سے2023 میں یہ2.04 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023سے2024 میں بڑھ کر3.47 کروڑ روپے ہو گیا۔ اگلے مالی سال 2024سے2025 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس کم ہو کر2.72 کروڑ روپے رہ گئے۔ پچھلے مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، یہ 4.96 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ، ٹیکسز،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2022سے2023 میں2.34 کروڑ روپے رہی، جو کہ 2023سے2024 میں3.78 کروڑ روپے اور 2024سے2025 میں4.85 کروڑ روپے ہو گئی۔ ساتھ ہی پچھلے مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں میں یعنی اپریل سے لے کر 31 دسمبر 2025 تک یہ 3.51 کروڑ کی سطح پر تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی