اتھروا پولی پلاسٹس آئی پی او سبسکرپشن کے لیے کھلا، 7جولائی کو لسٹ ہونے کا امکان
نئی دہلی، پلاسٹک کے کمپوننٹ بنانے والی کمپنی اتھروا پولی پلاسٹس لمیٹڈ کا 27 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 2 جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 3 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ6 جو
اتھروا


نئی دہلی، پلاسٹک کے کمپوننٹ بنانے والی کمپنی اتھروا پولی پلاسٹس لمیٹڈ کا 27 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 2 جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 3 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ6 جولائی کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 7 جولائی کو درج ہونے کا امکان ہے۔ آئی پی او کو پہلے دن دوپہر 2 بج کر 55 منٹ تک 89 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 55 روپے سے 60 روپے فی حصص کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 2,000 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کاروں کو دو لاٹس یعنی 4,000 حصص کے لیے بولی لگانی ہوگی، جس کے لیے انہیں 24,00,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے کل 45 لاکھ نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔آئی پی او نے اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے 47.33 فیصدحصہ ریزرو کیا ہے۔ مزید ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے 33.38 فیصد اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے 14.27 فیصد مختص ہے۔ اس کے علاوہ، 5.02 فیصدحصہ مارکیٹ میکرکے لیے مخصوص ہے۔ ہورائزن مینجمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایم یو ایف جی ان ٹائم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، آر کے اسٹاک ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی مارکیٹ میکر کمپنی ہے۔اتھروا پولی پلاسٹ کی مالی صحت کے حوالے سے، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیے گئے اس کے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعوی کیا گیا ہے، معمولی اتار چڑھاو¿ کے باوجود اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط رہی ہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں کمپنی کا خالص منافع 71 لاکھ روپے تھا، جو اگلے مالی سال میں بڑھ کر 2 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 5.29 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے دس مہینوں میں، یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک، کمپنی کا خالص منافع 4.73 کروڑ روپے تھا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں معمولی اتار چڑھاو¿ آیا۔ اسے مالی سال 2022تا2023 میں46.82 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 2023تا2024 میں کم ہو کر 43.09کروڑ روپے رہ گئی اور مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 49.06 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے 10 مہینوں میں، یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک، کمپنی کو 43.90 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں بھی اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2022تا2023 کے اختتام پر، کمپنی پر 16.16 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2023تا2024 میں کم ہو کر 13.59 کروڑ روپے اور مالی سال 2024تا2025 میں 7.91کروڑ روپے رہ گیا۔ ساتھ ہی، اگر ہم پچھلے مالی سال 2025تا2026کے پہلے دس مہینوں کی بات کریں، یعنیاپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک، تو کمپنی پر قرض کا بوجھ بڑھ کر 10.04 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ 5.72کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر 7.72 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024تا2025 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 13.01 کروڑ روپے تھی۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026کے پہلے دس مہینوں میں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک یہ 17.73کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں اس محاذ پر بھی اتار چڑھاو¿ کے باوجود کمپنی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں کمپنی کے رزرو اور اضافی کھاتے میں 78 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اس نقصان کو اگلے مالی سال 2023تا2024 میں پورا کیا گیا، جس سے کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر1.22 کروڑ روپے ہو گئے۔ وہیں، مالی سال 2024تا2025 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 6.51 کروڑ روپے تک آ گئے۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026کے پہلے دس مہینوں میں، یعنیاپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک، یہ 5.38 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ، ٹیکسز، ڈپریشیئیشنس اینڈایمارٹائزیشن) 2022تا2023 میں4.77کروڑ روپے رہی، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر 6.05 کروڑ روپے اور 2024تا2025 میں9.19 کروڑ روپے ہو گئی۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026 کے پہلے دس مہینوں میں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک یہ 5.38کروڑ کی سطح پر تھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande