
لکھنؤ، 30 جون (ہ س): اتر پردیش اسمبلی میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے چیف وہپ اور مراد آباد کی کانٹھ اسمبلی نشست سے رکن اسمبلی کمال اختر نے منگل کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو سونپ دیا ہے۔
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات قریب آنے اور پارٹی کی انتخابی تیاریوں کے درمیان کمال اختر کے اچانک استعفے کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کے استعفے کی اہم وجہ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ رُچی ویرا کے ساتھ حالیہ اختلافات اور مبینہ کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پارٹی کے رہنما انتخابی ماحول کے باعث اس معاملے پر کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں، لیکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کو لے کر چہ میگوئیاں تیز ہیں۔ وہیں، ایس پی قیادت نے ابھی تک چیف وہپ کے عہدے کے لیے کسی نئے نام کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم جلد ہی یہ ذمہ داری کسی نئے رہنما کو سونپی جا سکتی ہے۔
اپنے استعفے کے بارے میں کمال اختر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی صدر اکھلیش یادو کے حکم پر چیف وہپ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو ہمارے رہنما ہیں اور ان کے حکم پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
استعفے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی میں وقتاً فوقتاً رہنماؤں کی ذمہ داریاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ بھی اسی معمول کی تبدیلی کا حصہ ہے۔ میں تقریباً ڈیڑھ سال سے اس عہدے پر تھا۔ اب پارٹی میں کسی نئے رہنما کو یہ ذمہ داری دی جائے گی۔ مجھے انتخابات لڑنے ہیں، اس لیے اب میری توجہ اپنی اسمبلی نشست پر مرکوز ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کمال اختر کو جولائی 2024 میں اس وقت چیف وہپ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جب منوج کمار پانڈے نے چیف وہپ کے عہدے سے استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس وقت منوج پانڈے بی جے پی ریاستی حکومت میں وزیر ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد