
ہدایت کار انوراگ کشیپ کی آنے والی فلم ’بندر‘ کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سے ہی دھوم مچا رہی ہے۔ بوبی دیول ایک مقبول ٹی وی اداکار کے طور پر اداکاری کررہے ہیں جن کی زندگی میں اس وقت بڑی تبدیلی آتی ہے جب ان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ٹریلر کی ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر اس فلم کے بارے میں قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی ہیں، جس میں اس کا تعلق ’می ٹو‘ تحریک سے بھی جوڑاجارہا ہے۔اس دوران انوراگ کشیپ نے اب خود اس کا جواب دیا ہے۔
ایک بات چیت کے دوران انوراگ کشیپ نے واضح کیا کہ ’بندر‘ کا ’می ٹو‘ تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’می ٹو‘ طاقت کے غلط استعمال اور بااثر افراد کے جنسی استحصال کے بارے میں ایک تحریک ہے، جب کہ ان کی فلم کا موضوع مختلف ہے۔
کشیپ کے مطابق، یہ فلم طاقت کی کشمکش یا جنسی استحصال کی کہانی نہیں ہے، اس لیے اسے #MeToo کے نقطہ نظر سے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس دوران فلم کے پروڈیوسر نکھل دویدی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ فلم خواتین مخالف ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ 'می ٹو' تحریک کو 2017 میں ایک بڑی عالمی پہچان ملی جب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اپنے جنسی ہراسانی کے تجربات کو عام کیا۔
دوسری طرف بندر ایک منفرد سماجی اور نفسیاتی کہانی پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ بوبی دیول کے علاوہ، فلم میں سانیا ملہوترا، سپنا پبی، صبا آزاد اور راج بی شیٹی بھی اہم کرداروں میں ہیں۔ فلم 5 جون کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی