
فریدآباد، 28 جون (ہ س)۔ بلبھ گڑھ کے سیکٹر 3 میں کپڑے کی دکان چلانے والے 28 سالہ تاجر نے اپنی دکان کے اندر پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ خودکشی سے قبل تاجر نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں اس نے اپنی بیوی اور سسرال والوں پر ذہنی طور پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات لگائے۔ متوفی کی شناخت راہل (28) کے طور پر ہوئی ہے جو ہاوسنگ بورڈ، سیکٹر 3 کا رہائشی ہے۔ وہ سیکٹر 3 میں کپڑے کی دکان چلاتا تھا، جو اس نے تقریباً چار ماہ قبل کھولی تھی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق راہل اتوار کی صبح اپنی ماں کے گھر سے دکان پر واپس آیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے دکان کے اندر خود کو لٹکا لیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بی کے سول اسپتال بھیج دیا۔ اہل خانہ کے مطابق راہل نے تقریباً دو سال قبل جیوتی نامی خاتون سے محبت کی شادی کی تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ شادی کے بعد اس کی بیوی نہیں چاہتی تھی کہ راہل اپنے والدین کے ساتھ رہے۔ اس لیے وہ الگ رہنے لگا۔ اس نے حال ہی میں کپڑے کی ایک نئی دکان کھولی تھی۔ متوفی کے رشتہ دار امت نے الزام لگایا کہ راہل اپنی بیوی اور اس کے والدین کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی وجہ سے کافی عرصے سے ذہنی طور پر پریشان تھا۔ خاندان کا یہ بھی الزام ہے کہ راہل کو اس کے والدین سے ملنے سے روکا گیا تھا۔ خودکشی سے پہلے راہل نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں اس نے اپنی بیوی جیوتی، ساس وینا، سسر بٹو اور سالی نیتو پر سنگین الزامات لگائے۔ ویڈیو میں راہل نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی بیوی کے لیے گھر کے تمام کام کرتا ہے، جس میں جھاڑو اور برتنوں کی صفائی بھی شامل ہے، لیکن اس کے باوجود انھیں مارا پیٹا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل ذہنی دباو¿ کا شکار تھے۔ ویڈیو میں راہل نے یہ بھی کہا کہ ان کی بیوی اور سسرال والے ان کے اس عمل کے ذمہ دار ہیں اور انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ تفتیشی افسر سنجے کمار نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ پولس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی