
پلاسٹک کچرے سے عوامی مقامات کو بنایا خوبصورت
بھوپال، 28 جون (ہ س)۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبول پروگرام ’من کی بات‘ کا 135واں ایڈیشن اتوار کو ریڈیو سے نشر ہوا۔ وزیر اعظم مودی نے اس پروگرام کے ذریعے مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع کے بیاورا کی بہنوں کی ماحولیاتی تحریک کی مثالی کوششوں کا ذکر کیا۔
دراصل، مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع کے بیاورا شہر کی بہنوں کی انوکھی کوشش کا جب وزیر اعظم مودی نے اپنے ’من کی بات‘ پروگرام میں ’پلاسٹک مکت مہم‘ (پلاسٹک فری مہم) کے طور پر ذکر کیا، تو اس لمحے نے یہاں کے باشندوں کے دلوں کو فخر اور اعزاز سے بھر دیا۔ وزیر اعظم نے بیاورا کی بہنوں اور ماحولیات دوست تنظیموں کی جانب سے سماجی سروکار سے منسلک اس مثالی کوشش کی کھلے دل سے ستائش کی۔ انہوں نے اس مہم کو ’عوامی حصہ داری سے سماجی تبدیلی‘ اور ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ کی ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے اسے پورے ملک کے لیے رول ماڈل بتایا۔
وزیرِ اعظم مودی نے ’من کی بات‘ پروگرام میں کہا کہ انہیں راج گڑھ ضلع کے بیاورا کی کچھ بہنوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، جنہوں نے اپنے آس پاس پھیلے پلاسٹک کچرے کو ہٹانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کسی اور کے ساتھ دینے یا کسی تبدیلی کا انتظار نہیں کیا، بلکہ خود آگے بڑھ کر پورے شہر سے پلاسٹک کچرا اور خالی بوتلیں جمع کرنا شروع کر دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ پہل ایک عوامی تحریک بن گئی۔ جمع شدہ پلاسٹک کو ری سائیکل کر کے اس کا استعمال شہر کے عوامی مقامات کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران یہاں سینکڑوں کلو پلاسٹک کو ری سائیکل کر کے اس کا بہتر استعمال کیا گیا ہے، جو پلاسٹک کبھی شہر میں آلودگی پھیلاتا تھا، وہی آج ان بہنوں کی کوششوں سے شہر کی خوبصورتی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم مودی نے بیاورا کی تمام بہنوں اور اس مہم سے مربوط تمام ساتھیوں کو ان کے سماجی اور متاثر کن کام کے لیے مبارکباد اور نیک خواہشات بھی دیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے ’من کی بات‘ جیسے قومی پلیٹ فارم پر بیاورا میں چل رہی مہم کا ذکر پورے راج گڑھ ضلع اور مدھیہ پردیش کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ یہ کامیابی بتاتی ہے کہ جب معاشرہ خود تبدیلی کا عزم کرتا ہے، تب ایک چھوٹی سی کوشش بھی قومی پہچان بن جاتی ہے اور پورے ملک کے لیے لا ئق تقلید بنتی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بیتول ضلع کے ہل اسٹیشن گاوں ککرو میں دیہاتیوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ وزیر اعظم مودی کا ’من کی بات‘ پروگرام سنا۔ اس موقع پر قبائلی امور کے مرکزی وزیرِ مملکت درگا داس اوئیکے، سینئر رکن اسمبلی اور صوبائی صدر ہیمنت کھنڈیلوال، بھینس دیہی کے رکن اسمبلی مہیندر کیشر سنگھ چوہان، جن ابھیان پریشد کے نائب صدر ڈاکٹر موہن ناگر اور بڑی تعداد میں مقامی گاوں والے موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی نے اپنے خطاب میں مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع کے بیاورا کی ان تمام بہنوں کی ستائش کی، جو پلاسٹک کچرے کو ری سائیکل کر کے ایکو برکس تیار کر رہی ہیں۔ یہ قابلِ تعریف پہل ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ خواتین کے خود کفیل بننے کی سمت میں ایک بہترین مثال بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے آنے والے گنیش اتسو میں ہم وطنوں سے مٹی سے بنی گنیش مورتیاں لینے کی اپیل بھی کی ہے، تاکہ ہماری عقیدت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کا عزم بھی مزید مضبوط ہو۔
بیاورا کی ماحولیات دوست تنظیم کے کنوینر انل کشواہا کی قیادت میں گزشتہ کئی مہینوں سے شہر میں گھر گھر سے نکلنے والے سنگل یوز پلاسٹک اور پولی تھین کو جمع کر کے ایکو برکس تیار کی جا رہی ہیں۔ ان ایکو برکس سے پارکوں اور عوامی مقامات کے لیے بینچ، آرائشی ڈھانچے، گارڈن فرنیچر اور دیگر مفید سامان تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ پہل ’ویسٹ ٹو ویلیو‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنا کر ’پلاسٹک کچرے کو کثیر المقاصد وسائل‘ میں تبدیل کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہم کی سب سے بڑی طاقت عوامی شراکت داری ہے۔ یہاں شہر کی تمام گھریلو خواتین اپنے گھروں سے نکلنے والی پولی تھین الگ سے جمع کر رہی ہیں، تاجر اپنے اداروں کا پلاسٹک اس تنظیم کے سپرد کر رہے ہیں اور شہر کے نوجوان وقت نکال کر روزانہ ماحولیاتی تحفظ کے اس مشن سے جڑ رہے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے شہر میں پلاسٹک بینک اور بوتل بینک قائم کیے گئے ہیں، جہاں شہری آسانی سے پلاسٹک جمع کرا سکتے ہیں۔ شہر کے اسکولوں میں بیداری کے پروگرام منعقد کر کے نئی نسل کو بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے راغب کیا جا رہا ہے۔
تنظیم کے رکن ترون سین بتاتے ہیں کہ فی الحال 40-30 نوجوانوں اور خواتین کی ٹیم روزانہ رضاکارانہ طور پر اس مہم میں کام کر رہی ہے۔ اب تک 2 کوئنٹل سے زیادہ پلاسٹک کو ایکو برکس میں تبدیل کر کے شہر کے مختلف مقامات پر ان کا استعمال کیا جا چکا ہے۔ مقامی تاجروں اور شہریوں کا تعاون بھی دن بہ دن بڑھ رہا ہے، جس سے یہ مہم ایک وسیع عوامی تحریک بنتی جا رہی ہے۔
بلدیہ بیاورا نے بھی اس جدید پہل سے جڑ کر مستقبل میں ایکو برکس سے تیار کردہ مصنوعات کا عوامی مقامات پر زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن