دہلی کے دوا خرید گھوٹالہ میں سابق ڈی جی ایچ ایس افسر اور دو دیگر گرفتار، کروڑوں کی بدعنوانی کے الزامات
نئی دہلی، 28 جون (ہ س)۔ دہلی حکومت کے محکمہ صحت میں ادویات، جراحی کے سامان اور طبی آلات کی خریداری میں کروڑوں کے مبینہ گھپلے کی تحقیقات کر رہی انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی)نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اس وقت کے ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے ڈائریک
دوا


نئی دہلی، 28 جون (ہ س)۔ دہلی حکومت کے محکمہ صحت میں ادویات، جراحی کے سامان اور طبی آلات کی خریداری میں کروڑوں کے مبینہ گھپلے کی تحقیقات کر رہی انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی)نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اس وقت کے ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وتسلا اگروال اور سینٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی (سی پی اے) کے اس وقت کے ڈپٹی کنٹرولر آف اکاو¿نٹس نیرج چوپڑا کو گرفتار کر لیا۔ دونوں کو ہفتے کے روز راوز ایونیو کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اے سی بی نے تفتیشکے لیے ایک دن کا پولیس ریمانڈ طلب کیا۔

اے سی بی کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس کی شکایت کے بعد یہ کیس شروع کیا گیا تھا۔ شکایت میں سنٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی کے ذریعے ادویات، جراحی کے استعمال کے سامان، طبی آلات اور دیگر طبی سامان کی خریداری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ الزام ہے کہ بعض عہدیداروں نے نجی کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت سے منتخب کمپنیوں کے حق میں ٹینڈر کی شرائط اور تکنیکی معیارات میں ہیرا پھیری کی جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

تفتیش کے دائرہ کار میں پورٹیبل ایکسرے مشینوں، بیڈ شیٹس اور لینز، سی آرم ریڈیولاجیکل آلات، اینستھیزیا ورک اسٹیشنز، او آر ایس، جراحی کا سامان، ادویات اور دیگر طبی سامان کی خریداری شامل ہے۔ اے سی بی کا الزام ہے کہ یہ بازار کے نرخوں سے زیادہ قیمتوں پر خریدے گئے تھے۔ مزید، ٹینڈر کی شرائط حقیقی مسابقت کو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں اور صرف منتخب کمپنیاں ہی اہل تھیں۔

اے سی بی نے اس معاملے میں 2 جون 2026 کو انسداد بدعنوانی ایکٹ اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ سی پی اے کے دفتر کے اس وقت کے سربراہ ڈاکٹر ونود کمار رنگا کو 18 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔

اے سی بی نے کہا کہ ڈاکٹر رنگا سے پوچھ گچھ اور پروکیورمنٹ فائلوں، سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کی جانچ کے دوران ڈاکٹر وتسلا اگروال اور نیرج چوپڑا کے کردار سامنے آئے۔ اس کے بعد مجاز اتھارٹی کی اجازت سے ان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 17اے کے تحت کارروائی کی گئی۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف سطحوں پر ٹینڈر کی منظوری، پروکیورمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل، پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو ترتیب دینے اور مالیاتی منظوری جیسے اہم فیصلے کیے گئے۔ جبکہ پروکیورمنٹ بلوں کی جانچ پڑتال، ادائیگیوں کی پروسیسنگ اور سرکاری فنڈز کے اجراءکا کام سی پی اے کی اکاونٹس برانچ کے ذریعے کیا گیا۔

اے سی بی کا کہنا ہے کہ پولیس ریمانڈ کے دوران ملزم سے گمشدہ خریداری کے ریکارڈ، الیکٹرانک شواہد، منی ٹریل اور معاملہ میں ملوث دیگر اہلکاروں اور نجی کمپنیوں کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ایجنسی کا خیال ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید افراد کا کردار بھی سامنے آسکتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande