
شیو سینا نے آزاد ہندو پروٹیکشن بورڈ قائم کرنے کا مطالبہ کیا
جموں، 27 جون (ہ س)۔ شیو سینا نے ہندو مذہبی اداروں سے متعلق حالیہ تنازعات اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام ہندو مندروں اور مذہبی اداروں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے اور چاروں شنکراچاریاؤں کی قیادت میں ایک آزاد ہندو تحفظ بورڈ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی کی قیادت میں کارکنوں نے اندرا چوک جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور ہندو پروٹیکشن بورڈ تشکیل دو، مندروں کو بچاؤ، عقیدے کو بچاؤ اور مندروں کی خودمختاری بحال کرو ،جیسے نعروں والے پلے کارڈ اٹھائے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے منیش ساہنی نے کہا کہ رام مندر سے متعلق عطیات اور اراضی کے معاملات، شری ماتا ویشنو دیوی میں چاندی کے نذرانے سے متعلق تنازع اور تروپتی لڈو پرسادم معاملے نے لاکھوں عقیدت مندوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے مندروں کے انتظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے، اس لیے شفاف، جوابدہ اور خودمختار انتظامی نظام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عقیدت مندوں کے عطیات، نذرانے اور مندروں کی جائیدادوں کو مکمل شفافیت کے ساتھ صرف مذہبی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
ساہنی کے مطابق چاروں شنکراچاریاؤں کو خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں، جن میں ملک بھر کے مندروں کی خودمختاری اور تقدس کے تحفظ کی قیادت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔منیش ساہنی نے مزید کہا کہ شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سمیت سینکڑوں رام بھکتوں نے رام مندر کی تعمیر کے لیے نقد رقم اور چاندی عطیہ کی تھی، اس لیے مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ایس آئی ٹی رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کرکے اس کی جگہ ایک شفاف اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر