
از: چاروی اروڑا، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی
ہر تیز تر دوڑ، کھیل کے دوران چوٹ لگنے کے بعد تیزی کے ساتھ صحت یاب ہونے اور کھیل کے دن زیادہ دانشمندانہ فیصلوں کے پس پردہ ٹیکنالوجیوں کا ایک روز افزوں نظام کار فرما ہے جو کھیلوں کی صنعت کو نئی شکل دے رہا ہے۔ لیکن صرف تکنیک کے استعمال سے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ کھیلوں میں جدت طرازی کی دنیا کی ایک نمایاں منڈی کیوں بن چکا ہے۔
ٹیکساس کے شہر فریسکو میں واقع پلگ اینڈ پلے ٹیک سینٹر کے اسپورٹس ٹیک شعبے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ اسٹیل کے مطابق اس میدان میں امریکہ کی برتری کی ایک بڑی وجہ وہ مضبوط روابط ہیں جو اس نے کھیلوں کی ٹیموں، اسٹارٹ اَپ کمپنیوں، صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، سرمایہ کاروں اور عالمی برانڈز کے درمیان قائم کیے ہیں۔ یہی تعلقات نئے خیالات کو آزمائشی مراحل اور پائلٹ پروگراموں سے آگے بڑھا کر تجارتی مصنوعات اور کامیاب کاروباروں کی شکل دینے میں مدد دیتے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے اسپیکر پروگرام کے تحت ڈیوڈ اسٹیل نے حال ہی میں دہلی، چنڈی گڑھ اور ممبئی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ اسپورٹس ٹیک ایکو سسٹمس(تکنیک پر مبنی کھیلوں کا نظام ) کس طرح جدت طرازی، سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ امریکی ماڈل کی اصل طاقت کسی ایک ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس کی وسیع منڈی اور ان شراکت داریوں میں ہے جو اختراعات کو صارفین تک پہنچانے میں مدد دیتی ہیں۔
کھیلوں میں جدت طرازی کے لیے بازار کے حجم کی اہمیت
اسٹیل کے نزدیک امریکی اسپورٹس ٹیک ایکو سسٹم کی سب سے بڑے امتیازات میں سے ایک اس کی منڈی کا غیرمعمولی حجم ہے۔ وہ بتاتے ہیں ” اگر مجموعی طور پر امریکی منڈی کو دیکھا جائے تو اس کا حجم اور دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ نچلی سطح کے کھیلوں، جنہیں ہم گراس روٹس اسپورٹس کہتے ہیں اور جن میں 3 سے 4 کروڑ بچے حصہ لیتے ہیں، سے لے کر پیشہ ورانہ اور اعلیٰ ترین درجے کے کھلاڑیوں تک، اس کا پھیلاؤ بہت وسیع ہے۔“
یہ وسعت کمپنیوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کھیلوں میں شرکت اور مسابقت کے مختلف درجوں سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے مصنوعات اور خدمات تیار کر سکیں۔ بعض کمپنیاں ابتدا ء میں اعلیٰ درجے کے پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرتی ہیں اور بعد میں اسے وسیع تر مارکیٹ کے نقطہ نظر سے ڈھال لیتی ہیں، جبکہ بعض دیگر نچلی سطح سے آغاز کرکے بتدریج بڑے پیمانے پر ترقی کرتی ہیں۔
اس کا نتیجہ ایک ایسے وسیع آزمائشی ماحول کی صورت میں نکلتا ہے جہاں مختلف کھیلوں اور مسابقت کے مختلف درجوں پر ٹیکنالوجیوں کو جانچا، بہتر بنایا اور مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیاں اس وسیع پیمانے کے فوائد سے مؤثر انداز میں استفادہ کرنے میں کھیلوں کی تنظیموں کی مدد کررہی ہیں۔ کھیلوں کی ٹیمیں ، کوچیز اور نگراں ادارے اب ہنر کی شناخت ، کارکردگی کے تجزیے اور کھیلوں کی ترقی کو بڑھاوا دینے کے لیے اب زیادہ سے زیادہ مصنوعی ذہانت سے سرفراز نظاموں کا استعمال کررہی ہیں۔
اسٹیل کے مطابق، امریکی فٹ بال فیڈریشن سمیت کئی ادارے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو ان کے کریئر کے ابتدائی مرحلے ہی میں پہچاننے اور انہیں نکھارنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس عمل میں میدان کے کیمروں اور تربیتی اجلاس، میچوں اور بعد ازاں اس کے تجزیوں سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار سے مدد لی جاتی ہے۔ اس طرح کے نظام اداروں کو روایتی اسکاؤٹنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر کھلاڑیوں کا جائزہ لینے اور باصلاحیت افراد کی نشاندہی کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
کارپوریٹ شراکت داریاں اور تجارتی حکمتِ عملیاں
اگرچہ بازار کا وسیع حجم نئے مواقع پیدا کرتا ہے مگر اسٹیل کے مطابق ٹیکنالوجیوں کو تجارتی منڈی تک پہنچانے میں شراکت داریاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
پلگ اینڈ پلے میں یہ عمل مختلف ٹیموں، بَرینڈس اور دیگر اداروں کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد ادارہ دنیا بھر میں قائم اپنے 70 دفاتر کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تنظیموں کو ایسے اسٹارٹ اپ کمپنیوں سے جوڑتا ہے جو متعلقہ مسائل کے حل پر کام کررہے ہوتے ہیں۔
اسٹیل کے مطابق اس عمل میں سب سے پہلے مخصوص چیلنجز کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ پھر ایک منظم جائزہ عمل کے ذریعے ممکنہ حلوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں چنی گئی کمپنیوں کا آزمائشی منصوبوں کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کروایا جاتا ہے۔
کامیاب آزمائشی منصوبے ٹیکنالوجی کی افادیت اور عملی قابلیت کو ثابت کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں تجارتی سطح پر متعارف کرانے، سرمایہ کاری حاصل کرنے اور وسیع پیمانے پر اپنانے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
کھیلوں کی تنظیموں کے لیے سرمایہ کاری حاصل کرنے والی متعدد ٹیکنالوجیز کا تعلق کھلاڑیوں کی صحت، کارکردگی اور بحالی سے ہے۔
ان میں کھیل کے میدانوں کی سطح کو بہتر بنانے والی اختراعات، حفاظتی سازوسامان، جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کے نظام، پہننے کے قابل نگرانی آلات شامل ہوتے ہیں جن کی بدولت تربیت اور مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں کی کار کردگی پر نظر رکھی جاتی ہے۔
کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی سے متعلق ٹیکنالوجیوں کی جانچ اور توثیق
گیٹوریڈ اسپورٹس سائنس اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں جیسی تنظیموں کے ساتھ شراکت داریاں بھی کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجیاں تیار کرنے اور ان کی افادیت کی توثیق کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
اسٹیل کے مطابق” گیٹوریڈ اسپورٹس سائنس جیسے اداروں کے ساتھ کام کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے جسم میں پانی کی مناسب مقدار کی موجودگی کیوں اہم ہے۔ اسی طرح بیلر اسکاٹ اینڈ وہائٹ ہیلتھ جیسے طبّی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہم چوٹ کے بعد کھیل میں واپسی کے مراحل اور ان جدید ٹیکنالوجیوں کا جائزہ لیتے ہیں جو اس عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنا سکتی ہیں۔“
ابھرتی ہوئی کمپنیوں کے لیے کسی نئی ٹیکنالوجی کی توثیق اور اس کی مؤثریت ثابت کرنا اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا خود اختراع کرنا۔ اسٹیل کے مطابق، بڑی کھیلوں کی تنظیموں اور عالمی برَینڈس کے ساتھ شراکت داریاں یہ ثابت کرنے میں مدد دیتی ہیں کہ نئی ٹیکنالوجیاں حقیقی اور پیچیدہ عملی ماحول میں مؤثر انداز سے کام کر سکتی ہیں۔
اس طرح حاصل ہونے والی ساکھ اور اعتماد ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے، سرمایہ کاری حاصل کرنے اور کمپنیوں کو نسبتاً کم وقت میں بڑے پیمانے پر ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں ” جب آپ فارچون ایک ہزار یا فارچون پانچ سو کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کی رکاوٹ عبور کرلیتے ہیں تو اسٹارٹ اَپ کمپنی کی ٹیکنالوجی کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ اور ترقی کے امکانات غیر معمولی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ “
ہندوستان کے کھیلوں کے بازار میں ترقی کے وسیع مواقع
اسٹیل کا خیال ہے کہ جس عنصر نے امریکی کھیلوں کے تکنیکی بازار کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یعنی بڑے پیمانے کی منڈی ، وہی ہندوستان کے لیے بھی غیر معمولی مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
امریکہ کی طرح ہندوستان میں بھی ٹیکنالوجیوں کے لیے ممکنہ صارفین کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرتا ہے جس سے کمپنیوں کو مختلف سطحو ں پر کھیلوں سے متعلق حل آزمانے، بہتر بنانے اور انہیں وسعت دینے کے مواقع ملتے ہیں۔
اسٹیل کہتے ہیں ”اس وقت جن رجحانات کو میں سب سے زیادہ ابھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، ان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیاں اور وہ تمام اختراعات شامل ہیں جو شائقین کی دلچسپی بڑھانے یا کھلاڑیوں کی کاکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ “
ہندوستان کے حوالے سے اسٹیل کا خیال ہے کہ یہ مواقع ملک کے وسیع اور کھیلوں سے گہری دلچسپی رکھنے والے ناظرین کے ساتھ جڑ کر مزید اہمیت اخیتار کر جاتے ہیں۔ ان کے مطابق کرکٹ اپنے بے مثال حجم ، شائقین کی بھرپور وابستگی اور وسیع تجارتی امکانات کے باعث ہندوستان میں کھیلوں کے شعبے میں جدت کا ایک منفرد موقع فراہم کرتے ہیں۔
کھلاڑیوں کی صحت بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، خاص کر ان علاقوں میں جہاں شدید گرمی کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت دونوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
گرمی سے متعلق مسائل سے نمٹنے والی ٹیکنالوجیاں اور آلات جن میں غذائی اجزاء، پہنے جاسکنے والے آلات، جسم کو ٹھنڈارکھنے والے مواد اور گرمی کی شدت سے جسم کو لاحق نقصانات یا گرمی سے ہونے والی بیماریوں کی نگرانی کے نظام شامل ہیں ، ایسے شعبہ جات ہیں جن میں اسٹیل کے مطا بق مستقبل میں نمایاں ترقی کا مشاہدہ کیا جاسکے گا۔
کھیلوں کی تنظیمیں، اسٹارٹ اَ پ کمپنیاں اور سرمایہ کار جب کارکردگی بہتر بنانے ، کھیل کے شائقین کی دلچسپی بڑھانے اور کھلاڑیوں کی صحت کو بہتر بنانے کے نئے طریقے تلاش کررہے ہیں تو اسٹیل کے مطابق سب سے بڑے مواقع ان اختراع کاروں اور ان اداروں کے درمیان مضبوط رابطے قائم کرنے سے پیدا ہوں گے جو ان حلوں کو بڑے پیمانے پر عوام کے درمیان پھیلا سکیں گے۔
امریکی اسپورٹس ٹیک ایکوسسٹم سے حاصل ہونے والا سبق صرف نئی ٹیکنالوجیوں کو اپنانے تک محدود نہیں ہے۔ اصل اہمیت ایسے نیٹ ورکس بنانے میں ہے جو جدت کاروں کو ٹیموں، صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں، برَینڈس اور سرمایہ کاروں سے جوڑتے ہیں۔
یہ شراکت داریاں خیالات کو ابتدائی آزمائشی منصوبوں سے لے کر وسیع پیمانے پر استعمال تک پہنچانے میں مدد دیتی ہیں جن سے جدت آسانی کے ساتھ تجارتی مواقع میں ڈھل جاتی ہے۔
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد