مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے وارانسی سے پہلی ’ایزی کنیکٹ‘ فلائٹ کا آغاز کیا
نئی دہلی، 26 جون (ہ س)۔ شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے اتر پردیش کے وارانسی میں لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پہلی ’ایزی کنیکٹ‘ پرواز کا آغاز کیا۔ یہ پہل ہندوستان کے پہلے ہب اینڈ اسپوک بین الاقوامی سفری ماڈل کی نشاندہی ک
راے


نئی دہلی، 26 جون (ہ س)۔ شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے اتر پردیش کے وارانسی میں لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پہلی ’ایزی کنیکٹ‘ پرواز کا آغاز کیا۔ یہ پہل ہندوستان کے پہلے ہب اینڈ اسپوک بین الاقوامی سفری ماڈل کی نشاندہی کرتی ہے۔ جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں، شہری ہوابازی کی وزارت نے اعلان کیا کہ مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے 25 جون کو وارانسی کے لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت ہندوستان کی پہلی 'ایزی کنیکٹ' پرواز کا آغاز کیا۔ ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں کے مسافروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے بین الاقوامی رابطہ فراہم کرے گا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا، آج، ہم ہوائی سفر کو مزید قابل رسائی بنانے اور مستقبل کے لیے تیار، خود مختار ہندوستانی ہوابازی کی صنعت کی تعمیر کے اپنے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک بڑا قدم آگے بڑھا رہے ہیں جو موثر، جامع اور عالمی سطح پر مسابقتی ہوگی۔ آغازکے موقع پر، وزیر نے افتتاحی 'ایزی کنیکٹ' فلائٹ کے لیے چیک ان کرنے والے پہلے چند مسافروں کو یادگاری بورڈنگ پاس پیش کیے۔

مرکزی وزیر نے موقع پر موجود لوگوں کوبتایا، ہمارا نیا 'ہب-اینڈ-اسپوک' ماڈل ہمارے شہریوں کے سفر کے انداز میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لائے گا؛ قطع نظر اس کے کہ وہ کسی بھی شہر میں رہتے ہیں، ہندوستان میں لوگ اپنے بین الاقوامی سفر اپنے شہروں سے شروع کر سکتے ہیں اور ہندوستانی پروازوں پر آسانی اور اعتماد کے ساتھ پوری دنیا کا سفر کر سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہب اینڈ اسپوک حکمت عملی کا مقصد ہندوستان کو 2030 تک ہندوستانی مسافروں کے لیے اور 2047 تک دنیا کے لیے ایک ترجیحی ہوابازی کے مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ اس ایوی ایشن ہب کی ترقی سے تقریباً 0.4 ملین براہ راست اور بالواسطہ ملازمت پیدا ہونے کی امید ہے۔ 2030 تک، یہ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 30 ارب امریکی ڈالر کا اضافی تعاون کر سکتا ہے۔ 2047 تک، اس کا مجموعی اثر تقریباً 16 ملین براہ راست اور بالواسطہ ملازمتوں میں مدد کر سکتا ہے اور معیشت میں تقریباً 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کا تعاون کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande