
نئی دہلیپنجاب، 25 جون(ہ س )۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان کی مبینہ جعلی ویڈیو بنانے کی پوری سازش بے نقاب ہو گئی ہے۔ جس ویڈیو کو لے کر اپوزیشن جماعتیں شور مچا رہی تھیں، وہ دراصل جعلی ثابت ہوئی۔ وزیراعلیٰ بھگونت مان جیسا دکھائی دینے کے لیے ماسک کا استعمال کیا گیا تھا۔ کینیڈا میں مقیم مبینہ بلیک میلر جگمن سمرہ نے بھگونت مان کے ماسک کے ساتھ یہ ویڈیو تیار کی تھی۔ گاڑی میں ماسک کی ڈیلیوری کے بعد جگمن سمرہ کو ہاتھ میں بھگونت مان کا ماسک لیے ہوئے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مبینہ جعلی ویڈیو میں چہرے پر ماسک واضح طور پر نظر آ رہا ہے جبکہ بھگونت مان کی گردن پر موجود آپریشن کا نشان بھی غائب ہے۔جعلی ویڈیو کی اس مبینہ سازش کا انکشاف خود وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے موہالی کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس انکشاف کے بعد عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اس معاملے کو سیاسی مسئلہ بنانے والی اپوزیشن جماعتوں پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جعلی ویڈیو کی پوری حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ بھگونت مان کی جعلی ویڈیو ماسک لگا کر بنائی گئی تھی۔ اب ای ڈی پارٹی، چٹا پارٹی اور جھگڑا پارٹی پنجاب میں عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔ پنجاب کے لوگ اس گھٹیا حرکت کے لیے انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ان کی ایک جعلی اور فرضی ویڈیو چلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مذہبی حکم نامے بھی جاری کروائے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی آقا¶ں نے مذہبی عہدوں پر فائز افراد سے اپنی سہولت کے مطابق اعلانات کروائے تاکہ انہیں مذہبی طور پر بدنام کیا جا سکے، کیونکہ سیاسی میدان میں ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ پنجاب کے عوام کے لیے سماجی، اقتصادی اور مذہبی سطح پر جتنے کام ان کی حکومت نے کیے ہیں، اتنے کسی اور حکومت نے نہیں کیے۔ انہوں نے بے ادبی کے خلاف سخت سزا کے قانون، پالکی صاحب والی گاڑیوں کے ٹیکس کی معافی، شری آنندپور صاحب میں اسمبلی اجلاس کے انعقاد اور 350 ویں شہیدی سال کے موقع پر تین شہروں کو مقدس شہر کا درجہ دینے جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق اپوزیشن ان کاموں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس لیے اب سب جماعتیں مل کر انہیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایس جی پی سی کی جانب سے گردوارہ صاحبوں کے باہر ان کے بائیکاٹ کے بورڈ لگائے جا رہے ہیں اور اکال تخت صاحب کے حکم کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سکھبیر سنگھ بادل کو تنخواہیہ قرار دیا گیا تھا تو ان کے بائیکاٹ کے بورڈ کیوں نہیں لگائے گئے؟ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سکھبیر بادل کے فیصلوں کی حمایت کرتے رہے، ان کے خلاف ایسی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ جب انہیں اکال تخت صاحب پر طلب کیا گیا تھا تو وہ ایک عاجز سکھ کے طور پر وہاں حاضر ہوئے تھے اور آئندہ بھی بلایا گیا تو حاضر ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اکال تخت صاحب کی بالادستی کو چیلنج کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق جس ویڈیو کو بنیاد بنا کر تنازع کھڑا کیا گیا، وہ ایڈٹ شدہ ہے اور اس میں موجود شخص کی جسمانی ساخت، قد و قامت اور انداز ان سے مختلف ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ