آپ کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے رام مندر زمین خرید گھوٹالے کے ثبوت ایس آئی ٹی کے حوالے کر دیے
نئی دہلی، 25 جون(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے انچارج سنجے سنگھ نے شری رام مندر کی زمین خریداری میں مبینہ طور پر ہونے والے کروڑوں روپے کے گھوٹالے سے متعلق ثبوت اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کے حوالے کر دیے ہیں۔
آپ کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے رام مندر زمین خرید گھوٹالے کے ثبوت ایس آئی ٹی کے حوالے کر دیے


نئی دہلی، 25 جون(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے انچارج سنجے سنگھ نے شری رام مندر کی زمین خریداری میں مبینہ طور پر ہونے والے کروڑوں روپے کے گھوٹالے سے متعلق ثبوت اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کے حوالے کر دیے ہیں۔ جمعرات کے روز ایس آئی ٹی کے چیئرمین وجے وشواس پنت نے سنجے سنگھ کو لکھن¶ میں واقع اپنے دفتر طلب کیا تھا تاکہ وہ تمام دستاویزات پیش کریں۔ سنجے سنگھ نے زمین خریداری سے متعلق مجموعی طور پر 11 دستاویزات ایس آئی ٹی کو سونپیں، جن میں رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے سمیت کئی بڑے ناموں کے مبینہ طور پر اس معاملے میں شامل ہونے کا ذکر ہے۔ دوسری جانب آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ شری رام مندر کے چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کے سامنے آپ کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ پیش ہوئے اور زمین گھوٹالے کے ثبوت جمع کرا دیے ہیں۔ اروند کیجریوال نے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذرا سوچئے، چمپت رائے نے وزیر اعظم کو حساب دینے سے انکار کر دیا ہے۔ آخر چمپت رائے کی اتنی ہمت کیسے ہو گئی؟ وہ ایسے کون سے راز جانتے ہیں کہ وزیر اعظم بھی ان کے سامنے مجبور دکھائی دیتے ہیں؟ دوسری طرف ایس آئی ٹی چھوٹے چھوٹے ملازمین کو بلا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں شری رام چندر جی کے مندر سے متعلق میڈیا اور سوشل میڈیا میں جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، ان سے دل کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ ان کے مطابق، لوگوں نے بھگوان کو عقیدت کے ساتھ جو ہیرے جواہرات اور نذرانے پیش کیے تھے، ان میں بھی مبینہ طور پر خرد برد ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تقریباً 200 کروڑ روپے نقد رقم اور کسی عقیدت مند کی جانب سے دی گئی 200 کلو چاندی بھی غائب ہو گئی ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ رام مندر سے متعلق سامنے آنے والی خبروں نے ان سمیت کروڑوں لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اسی لیے وہ ایودھیا روانہ ہو رہے ہیں اور جمعہ کے روز رام مندر جا کر درشن کریں گے۔ اس کے بعد وہ ہنومان گڑھی بھی جائیں گے اور وہاں بعض سنتوں سے ملاقات کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر کسی شخص کے صرف 100 روپے بھی چوری ہو جائیں تو تھانے میں ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، لیکن یہاں اربوں روپے کی مبینہ چوری کے باوجود ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانون جانتے ہیں اور قانون کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ایف آئی آر کے بغیر ایس آئی ٹی تشکیل نہیں دی جا سکتی کیونکہ فوجداری ضابطہ (CRPC) کے تحت پہلے ایف آئی آر درج ہونا ضروری ہے۔انہوں نے ایس آئی ٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیم کس قانون اور کس دفعہ کے تحت قائم کی گئی ہے؟ ان کے مطابق اس کے پاس تفتیش کے اختیارات ہی نہیں ہیں اور یہ پوری کارروائی محض دکھاوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کا مقصد بڑے لوگوں کو بچانا اور معاملے پر پردہ ڈالنا ہے، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف نچلے درجے کے ملازمین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ چندے، ہیرے جواہرات اور بھگوان کی پادوکا کی مبینہ چوری کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے جس سے کروڑوں ہندو¶ں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس میں کئی بااثر افراد شامل ہیں اور ایس آئی ٹی کا مقصد صرف معاملے کو دبانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے کئی پہلو ہیں جن کی تفصیلات وہ جمعہ کے روز عوام کے سامنے رکھیں گے۔ سنجے سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ زمین خریداری کے نام پر ٹرسٹ میں کروڑوں روپے کا گھوٹالا ہوا ہے اور انہوں نے تمام دستاویزات ایس آئی ٹی کو سونپ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آگے کیا کارروائی ہوگی، یہ بھگوان شری رام ہی جانتے ہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ شری رام مندر میں مبینہ گھوٹالے کی وجہ سے ملک بھر کے لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چڑھاوے اور چندے میں مبینہ خرد برد سے کروڑوں ہندو¶ں کی آستھا کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اسی معاملے کی جانچ کے لیے اتر پردیش حکومت نے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے جس کے سربراہ لکھن¶ کے کمشنر وجے وشواس پنت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آئی ٹی سربراہ نے انہیں طلب کیا تھا اور وہ تمام دستاویزات مقررہ وقت پر جمع کرا چکے ہیں۔ سنجے سنگھ کے مطابق ان کے پاس کل 13 دستاویزات تھیں، لیکن دو معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہونے کی وجہ سے 11 سیٹ کاغذات ایس آئی ٹی چیئرمین اور ایک دیگر رکن کو دیے گئے۔ ان کے مطابق ان دستاویزات میں کئی حیران کن تفصیلات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کروڑ روپے کی زمین خریدنے، 9 کروڑ روپے مالیت کی زمین 55 کروڑ 47 لاکھ روپے میں اور 3 کروڑ روپے کی زمین 24 کروڑ روپے میں خریدنے کے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 24 کروڑ روپے میں خریدی گئی زمین نزول زمین تھی جسے قانونی طور پر خریدا یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق میئر رشی کیش اپادھیائے کے بھتیجے دیپ نارائن سے متعلق کئی دستاویزات بھی ایس آئی ٹی کو دی گئی ہیں، جن میں زمین فروخت کے ذریعے ٹرسٹ کو نقصان پہنچانے کے الزامات درج ہیں۔ اسی طرح 2021 کے ایک پرانے انکشاف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلطان انصاری اور روی موہن تیواری نے دو کروڑ روپے میں زمین خرید کر محض پانچ منٹ بعد اسے 18.5 کروڑ روپے میں ٹرسٹ کو فروخت کر دیا تھا۔سنجے سنگھ نے مختلف دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ کئی زمینیں اپنی اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ نرخوں پر خریدی گئیں۔ ان کے مطابق بعض زمینوں کی خرید و فروخت کے ریکارڈ نامکمل یا مشتبہ ہیں، جبکہ کچھ دستاویزات میں قیمتوں میں غیر معمولی فرق پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2 اپریل 2024 کو گاتا نمبر 247 کی 2 کروڑ 92 لاکھ روپے مالیت کی زمین ٹرسٹ کو 24 کروڑ روپے میں فروخت کی گئی۔ ان کے مطابق ایس ڈی ایم ایودھیا کی رپورٹ میں اسے نزول زمین قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس زمین کی خریداری خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سنجے سنگھ نے آخر میں کہا کہ 16 نومبر 2023 کو 9 کروڑ روپے مالیت کی زمین 55 کروڑ 47 لاکھ روپے میں خریدی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اتر پردیش حکومت نے اسی علاقے میں زیادہ کارآمد زمین کسانوں سے بہت کم قیمت پر حاصل کی تھی، جبکہ ٹرسٹ نے اسی زمین کے لیے غیر معمولی طور پر زیادہ رقم ادا کی۔ انہوں نے اسے بڑا بدعنوانی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ثبوت ایس آئی ٹی سربراہ وجے وشواس پنت کو سونپ دیے گئے ہیں، جنہوں نے کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔سنجے سنگھ نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ایودھیا جا کر خود زمینی حقائق کا جائزہ لے اور عوام کے سامنے سچائی لائے۔ ان کے مطابق اگر میڈیا شری رام مندر اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کے اطراف چند کلومیٹر کا سروے کرے تو زمین خریداری سے متعلق کئی حقائق خود سامنے آ جائیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande