سنبھل میں محرم کا جلوس کے لیے نئے روٹ کا مطالبہ مسترد
-انتظامیہ کو امن و امان کے تحت فیصلے لینے کا حق پریاگ راج، 25 جون (ہ س)۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل ضلع کے حضرت نگر گڑھی کےمسلمانوں کی طرف سے دائر عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس میں محرم کے موقع پر علم تازیہ جلوس کے لیے نیا راستہ دینے کا مطالبہ کی
DEMAND-NEW-ROUTE-MUHARAM-REJEC


-انتظامیہ کو امن و امان کے تحت فیصلے لینے کا حق

پریاگ راج، 25 جون (ہ س)۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل ضلع کے حضرت نگر گڑھی کےمسلمانوں کی طرف سے دائر عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس میں محرم کے موقع پر علم تازیہ جلوس کے لیے نیا راستہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شریف احمد اور دیگر درخواست گزاروں نے 26 اور 27 جون 2026 کو پڑنے والے محرم کی نویں اور دسویں دن تعزیہ کے جلوس کے لیے نئے روٹ کی اجازت کے لیے ہائی کورٹ میں ایکپی آئی ایل دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ 1952 سے 2022 تک ریلوے کراسنگ ہوتے ہوئے حضرت نگر گڑھی سے کربلا تک جلوس نکالاجاتا تھا۔ 2022 میں ریلوے لائن کی برقی کاری کے دوران ایک المناک حادثے میں چارعلم بردار ہائی وولٹیج بجلی کی زد میں آ گئے اور ریلوے نے دونوں طرف دیواریں بنا کر سڑک کو مستقل طور پر بند کر دیا۔

اس کے بعد لوگوں نے سرسی بلاری مین روڈ سے ہوتے ہوئے گاؤں سرسی کے کھسرہ نمبر 1650/1 میں واقع کربلا جانے کے لیے نئے راستے کی اجازت مانگی، لیکن انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ 28 جولائی 2023 کو مسلم اور ہندو، دونوں برادریوں کے نمائندوں کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا تھا جو تہوار کے رجسٹر میں درج ہے۔ اس معاہدے کے مطابق جلوس سرکاری ٹیوب ویل تک جائے گا، جہاں رسومات ادا کی جائیں گی اور علم کو وہیں نیچے اتار کر ہاتھ سے واپس لایا جائے گا۔

انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ دیگر برادریوں کو سرسی بلاری مین روڈ پر جلوس نکالنے پر اعتراض ہے کیونکہ یہ روایتی راستہ نہیں ہے اور نئی روایت قائم ہونے کا خطرہ ہے۔ پی آئی ایل کو خارج کرتے ہوئے، جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ارون کمارپر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ جہاں آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے، وہیں کسی خاص راستے پر جلوس نکالنے کا کوئی بنیادی حق نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ جلوس کے راستے کا تعین امن و امان کا معاملہ ہے اور یہ انتظامیہ کی صوابدید میں آتا ہے۔ جب دوسری برداری اعتراض کرتی ہیں اور سماجی تصادم کا خطرہ ہوتا ہے تو انتظامیہ نیا راستہ فراہم کرنے سے انکار کر سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار 28 جولائی 2023 کے معاہدے کے پابند ہیں اور اس کے مطابق جلوس نکالیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande