مراٹھی زبان صحیح نہ پڑھنے پر سنجے راؤت کا اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کی معطلی کا مطالبہ
مراٹھی زبان صحیح نہ پڑھنے پر سنجے راؤت کا اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کی معطلی کا مطالبہممبئی، 24 جون (ہ س)۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ترجمان اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر کی جانب سے مراٹھی زبان
Politics-Maha-Marathi-Row


مراٹھی زبان صحیح نہ پڑھنے پر سنجے راؤت کا اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کی معطلی کا مطالبہممبئی، 24 جون (ہ س)۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ترجمان اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر کی جانب سے مراٹھی زبان کے مطالعے کے دوران ہونے والی غلطیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ اگر ریاست میں عام شہریوں کے لیے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے تو پھر اسمبلی اسپیکر کے معاملے میں بھی یکساں معیار اپنایا جانا چاہیے۔سنجے راؤت نے کہا کہ مہاراشٹر کی شناخت اس کی مراٹھی زبان اور ثقافت سے ہے۔ ریاست میں مراٹھی زبان کے فروغ کے لیے مسلسل مہمات چلائی جا رہی ہیں اور مختلف شعبوں میں مراٹھی زبان کا علم لازمی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں، دکانداروں، پھیرے والوں اور دیگر عام شہریوں پر مراٹھی سیکھنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے اور زبان نہ جاننے کی صورت میں ان کے روزگار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ راؤت نے کہا کہ ایسے ماحول میں اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا ایوان میں تعزیتی قرارداد پڑھتے وقت بڑی تعداد میں غلطیاں کرنا ایک سنگین معاملہ ہے۔ ان کے مطابق منگل کے روز تعزیتی قرارداد پیش کرتے وقت نارویکر صاف اور واضح لکھی ہوئی مراٹھی عبارت درست طریقے سے نہیں پڑھ سکے اور چند منٹوں میں چالیس سے زائد غلطیاں کر بیٹھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عام لوگوں سے مراٹھی زبان کے معاملے میں سخت توقعات رکھی جاتی ہیں تو آئینی عہدوں پر فائز افراد کے لیے الگ معیار کیوں ہونا چاہیے۔سنجے راؤت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ راہل نارویکر کو ان کے خاندانی نام کی بنیاد پر ناروے کا رہائشی کہا جا سکتا ہے، اس لیے مراٹھی زبان سے متعلق بنائے گئے پیمانوں کے مطابق انہیں فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان کا یہ بیان سیاسی طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس تنازع میں ممبئی کی سابق میئر کشوری پیڈنیکر بھی شامل ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اسپیکر پہلی جماعت کے طالب علم کی سطح کی مراٹھی بھی درست طریقے سے نہیں پڑھ سکے۔ پیڈنیکر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد راہل نارویکر کو خود احتسابی کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔تنازعہ بڑھنے کے بعد راہل نارویکر نے بدھ کے روز اسمبلی میں وضاحت پیش کرتے ہوئے مراٹھی زبان کے مطالعے کے دوران ہونے والی غلطیوں پر عوامی طور پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ منگل کے روز ایوان میں مجموعی طور پر 12 تعزیتی قراردادیں پیش کی جانی تھیں اور ان کا متن نہایت باریک حروف میں تحریر کیا گیا تھا، جس کے باعث ان سے بعض غلطیاں ہو گئیں۔ نارویکر نے واضح کیا کہ انہیں مراٹھی زبان پر فخر ہے اور وہ ہمیشہ مراٹھی زبان اور ثقافت کا احترام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر مراٹھی زبان میں قراردادیں اور دیگر پارلیمانی کارروائیاں چلاتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ جو غلطی ہوئی وہ غیر ارادی تھی، جس کے لیے وہ ریاست کے عوام سے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو، اس کے لیے خصوصی احتیاط برتی جائے گی۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مراٹھی زبان سے متعلق شروع ہونے والا یہ تنازع اب سیاسی رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اس معاملے کو مراٹھی شناخت اور زبان کے احترام سے جوڑ کر حکومت اور اسمبلی اسپیکر کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ راہل نارویکر نے اپنی غلطی تسلیم کر کے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ ریاستی سیاست میں بحث کا اہم موضوع بنا رہ سکتا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande