
کئی مقامات پر مرکزی حکومت اور ٹرمپ کے پتلے جلائے گئے، کسان رہنماوں نے احتجاج کو تیز کرنے کا انتباہ دیا
چنڈی گڑھ، 24 جون (ہ س)۔
ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کا غصہ بدھ کو سامنے آیا۔ کسان تنظیموں نے پنجاب کے 21 اضلاع میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے، مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے۔ کئی مقامات پر مظاہرین نے مرکزی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے بھی جلائے۔ امرتسر میں کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھر کی قیادت میں سینکڑوں کسان بی جے پی کے دفتر کے باہر جمع ہوئے اور بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف نعرے لگائے۔ کسان رہنماو¿ں نے الزام لگایا کہ جولائی کے آخر تک معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیاریاں جاری ہیں، لیکن کسانوں، کھیت مزدوروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھر نے کہا کہ اگر اس تجارتی معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو پنجاب سمیت پورے ملک کے کسانوں، کھیت مزدوروں اور ڈیری سیکٹر سے وابستہ لوگوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی مصنوعات کے لیے مارکیٹ کھولنے سے مقامی زراعت اور ڈیری سیکٹر پر دباؤ بڑھے گا جس سے کسانوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔کسان مزدور مورچہ کی کال پر امرتسر، بھٹنڈہ، فرید کوٹ، فیروز پور، فاضلکا، گورداسپور، ہوشیار پور، جالندھر، کپورتھلہ، لدھیانہ، مالیرکوٹلہ، مانسا، موگا، سری مکتسر صاحب، پٹھان کوٹ، پٹیالہ، روپ نگر،موہالی، سنگرور، شہید بھگت سنگھ نگراورترن تارن میں مظاہرے کئے گئے۔ کئی مقامات پر بی جے پی کے دفاتر اور بی جے پی لیڈروں کے گھروں کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔احتجاج کے دوران کسان رہنماوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج میں شدت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے حقوق اور زرعی شعبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan