
نئی دہلی، 24 جون (ہ س)۔ بھگونت مان سے متعلق مبینہ ویڈیو تنازعہ میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ آر پی سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ گروگرام پولیس کرائم برانچ کی جانب سے درج ایک ایف آئی آر میں جعلی فارنسک شواہد تیار کرکے وزیر اعلیٰ کو بچانے کی مبینہ سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے اس پورے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے بھگونت مان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
آر پی سنگھ نے بدھ کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گروگرام کے ڈی ایل ایف سیکٹر-29 تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 0263 کے تحت منظم جرم، دھوکہ دہی، الیکٹرانک ریکارڈ میں جعلسازی اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ مبینہ ویڈیو کو ڈیپ فیک ثابت کرنے کے لیے جعلی فارنسک رپورٹ تیار کرانے اور حقائق کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
بی جے پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں بعض افراد نے مبینہ طور پر آزاد سائبر اور فارنزک لیب کے نام پر رپورٹیں تیار کیں، جبکہ تحقیقات میں ان اداروں کی قانونی حیثیت اور اعتبار پر سوالات اٹھے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پورے معاملے میں سچائی کو دبانے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
آر پی سنگھ نے کہا کہ جن رپورٹوں کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ کو کلین چٹ دینے کی کوشش کی گئی تھی، ان کی صداقت پر اب سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک ویڈیو تنازعہ تک محدود نہیں بلکہ سرکاری نظام کے مبینہ غلط استعمال اور جعلی دستاویزات کے استعمال سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ جمہوری اداروں اور عوام کے اعتماد پر بڑا ضرب ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کرائی جائیں اور بھگونت مان اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد