ترقی یافتہ ہندوستان کی سب سے بڑی بنیاد مشرقی ہندوستان کی ترقی ہے، بنگال کی ترقی نئی تحریک فراہم کرے گی: وزیر اعظم مودی
تارکیشور، 20 جون (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو مغربی بنگال دیوس کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہندوستان کے عزم کی کامیابی کا انحصار مشرقی ہندوستان کی ترقی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ''مشن پورو
مشرقی ہندوستان کی ترقی ترقی یافتہ ہندوستان کی سب سے بڑی بنیاد ، بنگال کی ترقی نئی تحریک فراہم کرے گی: وزیر اعظم مودی


تارکیشور، 20 جون (ہ س)۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو مغربی بنگال دیوس کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہندوستان کے عزم کی کامیابی کا انحصار مشرقی ہندوستان کی ترقی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت 'مشن پوروودیہ' کے تحت مشرقی ریاستوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے، اور اس میں مغربی بنگال کا اہم رول ہے۔

مغربی بنگال کے ہگلی ضلع کے تارکیشور میں منعقدہ یوم مغربی بنگال کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بابا تارک ناتھ کی برکت سے اس مقدس سرزمین کا دورہ کرنا ایک اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اور حلف برداری کے بعد عوام کے درمیان آنے کا یہ ان کا پہلا موقع تھا اور انہیں بنگال میں تبدیلی کی نئی توانائی اور امید نظر آئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یوم مغربی بنگال صرف ایک تاریخ نہیں ہے بلکہ بنگال کی جدوجہد، قربانی، وراثت اور شناخت کو یاد کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے روشن مستقبل کا خواب، جو آزادی کے بعد دیکھا گیا تھا، اب پہلی بار پورا ہو رہا ہے، اور ریاست ایک نئی تاریخ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے ریلوے، زراعت، دیہی ترقی، ماہی پروری اور مویشی پروری سے متعلق کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کی 23 ویں قسط بھی جاری کی، جس میں ملک بھر کے 9.44 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے کھاتوں میں براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتوں اور ترنمول کانگریس کی دہائیوں سے حکومت کرنے والی حکومتوں کی وجہ سے مغربی بنگال ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان حکومتوں نے ریاست کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کیں، جبکہ اب ڈبل انجن والی حکومت تیزی سے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے، سڑکوں، زراعت اور ماہی پروری سے متعلق نئے پروجیکٹوں سے ریاست کی معیشت مضبوط ہوگی اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

مودی نے کہا کہ بنگال کو نوآبادیاتی حکومت اور تقسیم کے دوران انتہائی مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ 1946 کے کولکاتہ تشدد اور نواکھلی فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ریاست نے بے پناہ مصائب اور قربانیاں برداشت کیں لیکن اپنی ثقافتی شناخت اور عزت نفس کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کا قیام ان کوششوں کا نتیجہ تھا، جنہوں نے بنگال کو ہندوستان سے الگ کرنے کی سازش کو ناکام بنایا۔

وزیر اعظم نے کانگریس پارٹی پر تقسیم کے وقت بنگال کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ بعد کے سالوں میں خوشامد کی سیاست نے ریاست کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی خدمات کو سیاسی وجوہات کی بنا پر مناسب شناخت نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور، بنکم چندر چٹوپادھیائے، سوامی وویکانند، نیتا جی سبھاش چندر بوس، اور ایشور چندر ودیا ساگر جیسی عظیم شخصیات کی سرزمین پر کئی دہائیوں تک ایسی پالیسیاں نافذ کی گئیں جنہوں نے ریاست کی بنیادی شناخت کو کمزور کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کو غیر قانونی تارکین وطن کا مرکز بننے دیا گیا، وسائل اور مواقع پر دباو¿ بڑھایا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ برسوں کی غلط حکمرانی بڑی صنعتوں کے انخلاء ، چھوٹی صنعتوں کی بندش اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں کمی کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال جو کبھی مواقع کی سرزمین سمجھا جاتا تھا، نقل مکانی کا مرکز بن گیا تھا، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد عوام کو اپنے حقوق کا براہ راست فائدہ ملنے لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ہندوستان بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کے لیے زمین کی منتقلی کا عمل روک دیا تھا، جسے اب آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا وہ اب واپس کر رہے ہیں، کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کھیتی بچاو¿ مہم پر تبادلہ خیال کیا اور کیمیائی کھادوں کے استعمال کو کم کرنے اور قدرتی کھیتی کو اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مٹی کا معیار بہتر ہوگا اور زراعت زیادہ پائیدار ہوگی۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیر اعظم نے بین الاقوامی یوگا ڈے کا حوالہ دیا، جو 21 جون کو منایا جاتا ہے، اور کہا کہ وہ خود اس سال مغربی بنگال میں یوگا ڈے کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے ملک اور دنیا بھر کے لوگوں سے یوگا ڈے کی تقریبات میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande