
لکھنؤ، 20 جون (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اتر پردیش میں بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اور اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ غیر منقولہ جائیدادوں کی رجسٹریشن، ملکیت کی تصدیق اور نام کی منتقلی (داخل ۔ خارج) کے عمل کو آسان، محفوظ اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے مقصد سے چیف سیکریٹری کی صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمۂ اسٹامپ و رجسٹریشن نے جامع اصلاحات کا خاکہ پیش کیا۔
یوگی حکومت مسلسل انتظامی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ اسی سلسلے میں جائیداد کی رجسٹریشن اور نام کی منتقلی کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن سے جعلی ملکیت، متنازع جائیدادوں کی فروخت اور دھوکہ دہی کے واقعات پر مؤثر روک لگائی جا سکے گی۔ پیشکش میں رجسٹریشن ایکٹ 1908 میں ترمیم کرکے نئی دفعات 22-اے، 22-بی اور 35-اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی، جس کے تحت جائیداد کی ملکیت اور حقوق کی پیشگی جانچ لازمی بنائی جا سکے گی۔
یوگی حکومت کا ہدف ریاست کی تمام دیہی اور شہری جائیدادوں کے لیے ایک منفرد پراپرٹی آئی ڈی تیار کرنا ہے۔ اس آئی ڈی کو جی آئی ایس میپنگ اور سرکاری ملکیتی ریکارڈ سے جوڑا جائے گا، جس سے کسی بھی جائیداد کی شناخت، ملکیت اور ریکارڈ کی معلومات ایک کلک پر دستیاب ہوں گی۔ دیہی علاقوں میں پہلے ہی سوامتو اسکیم کے تحت ملکیت کے دستاویزات تیار کرنے کا کام جاری ہے، جبکہ شہری علاقوں میں بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی اتھارٹیز کو منفرد پراپرٹی آئی ڈی تیار کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔
ریاستی حکومت شہریوں کو بڑی سہولت فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت جائیداد کی رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی نام کی منتقلی کا عمل خودکار طور پر شروع ہو جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مختلف محکموں کے ریکارڈ کا انضمام، اے پی آئی پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ اور ریئل ٹائم ریکارڈ اپ ڈیٹ سسٹم تیار کیا جائے گا۔ اس سے لوگوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وقت و وسائل کی بچت ہوگی۔
یوگی حکومت مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے مطابق اراضی ریکارڈ کی جدیدکاری پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اس کے تحت ہر زمینی پارسل کو منفرد لینڈ پارسل آئیڈینٹیفکیشن نمبر (یو ایل پی آئی این) یعنی بھو آدھار فراہم کیا جائے گا۔ یہ جغرافیائی حوالہ جاتی شناختی نمبر زمین کے ریکارڈ کو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جی آئی ایس نظاموں سے جوڑنے میں مدد دے گا، جس سے زمین سے متعلق ریکارڈ زیادہ درست اور تازہ ترین رہیں گے۔
ان مجوزہ اصلاحات کے تحت پراپرٹی ٹیکس رجسٹر کو محکمۂ اسٹامپ و رجسٹریشن، محکمۂ ریونیو، بجلی، پانی اور سیوریج کے ریکارڈ سے بھی جوڑا جائے گا۔ کامن پراپرٹی آئی ڈی پر مبنی یہ نظام مختلف محکموں کے درمیان ڈیجیٹل ڈیٹا کے تبادلے کو آسان بنائے گا اور ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید مؤثر بنائے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اصلاحات کے نافذ ہونے سے جائیداد سے متعلق تنازعات میں کمی آئے گی، شہریوں کو تیز اور شفاف خدمات حاصل ہوں گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ یوگی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط کرے گا بلکہ ایز آف لیونگ اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کو بھی نئی رفتار دے گا۔ اتر پردیش کو ٹیکنالوجی پر مبنی زمین اور جائیداد کے انتظام کے میدان میں ایک نمایاں ریاست بنانے کی جانب یہ ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد