
فلم کی کہانی سنگین سماجی مسائل جیسے کہ خوراک میں ملاوٹ، کیمیائی مادوں کا غلط استعمال اور اس سے جڑے مبینہ گھوٹالوں پر مرکوز ہے۔ پوسٹر میں ایک باپ کی اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کے لیےسسٹم کے خلاف جدوجہد کو دکھایا گیا ہے، جب کہ ایک وکیل اس کی قانونی جنگ میں مدد کر رہا ہے۔ پروڈیوسرز کا دعویٰ ہے کہ یہ فلم بڑے پردے پر معاشرے میں فوڈ سیفٹی سے متعلق حساس مسائل کو اجاگر کرے گی۔
تاہم، اس فلم کو لے کر تنازعات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
حال ہی میں پروڈیوسرز کو ایک قانونی نوٹس بھیجا گیا تھا، جس میں ان پر گمراہ کن اور ہتک آمیز دعوے کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فلم ہندوستانی زراعت اور خوراک کے نظام کو غلط طریقے سے پیش کرتی ہے اور اسے ”سلو پوائزن“ کے طور پر پیش کرکے اس کی شبیہہ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ سی بی ایف سی سے فلم کوسرٹیفکیٹ نہ دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ پروڈیوسرز نے ابھی تک ان الزامات کا باضابطہ طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ یہ فلم 24 جولائی 2026 کو ہندی، تیلگو اور تامل میں ریلیز ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد