
ممبئی، 17 جون (ہ س)۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کو بدھ کے روز بڑا سیاسی جھٹکا اس وقت لگا جب اس کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے بغاوت کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایک الگ پارلیمانی گروپ تشکیل دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ تمام ارکانِ پارلیمنٹ 19 جون کو نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں باضابطہ طور پر شامل ہونے والے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے دفتر نے بھی ان چھ ارکان کے علیحدہ گروپ کو منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ان کی شندے گروپ میں شمولیت کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔ شندے گروپ کی قومی ترجمان شائنا این سی نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کا ’’آپریشن پرگتی‘‘ کامیاب ہو چکا ہے اور بہت جلد یہ تمام چھ ارکانِ پارلیمنٹ شیو سینا کے شندے دھڑے کا حصہ بن جائیں گے۔واضح رہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے نو ارکانِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ ان میں دھاراشیو سے اوم راجے نمبالکر، پربھنی سے سنجے جادھو، ممبئی شمال مشرق سے سنجے دینا پاٹل، ہنگولی سے ناگیش پاٹل اشتی کر، شرڈی سے بھاؤ صاحب واکچورے اور یوت مال-واشیم سے سنجے دیشمکھ نے پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے الگ گروپ تشکیل دیا ہے۔ دوسری جانب انیل دیسائی، اروند ساونت اور راجابھاؤ واجے بدستور شیو سینا (یو بی ٹی) کے ساتھ وابستہ ہیں اور انہوں نے ادھو ٹھاکرے کی قیادت پر اعتماد برقرار رکھا ہے۔سیاسی پیش رفت کے درمیان نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قانونی ٹیم نئی دہلی پہنچ گئی ہے اور باغی ارکانِ پارلیمنٹ کی شندے گروپ میں شمولیت سے متعلق تمام آئینی اور قانونی رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایکناتھ شندے نے اپنی قانونی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ تمام کارروائیاں قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی قانونی تنازع یا تکنیکی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ادھر شیو سینا (یو بی ٹی) کے ترجمان سنجے راؤت نے اس پورے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ پر مختلف نوعیت کے دباؤ ڈال کر انہیں پارٹی سے الگ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی مخالفین دانستہ طور پر شیو سینا (یو بی ٹی) کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس شندے گروپ کے رکنِ پارلیمنٹ نریش مسکے نے کہا کہ باغی ارکان طویل عرصے سے پارٹی قیادت سے ناراض تھے اور اسی ناراضی کے سبب انہوں نے بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ نریش مسکے نے سنجے راؤت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کے مسائل اور شکایات پر توجہ دینی چاہیے تھی۔اس سیاسی بحران کے دوران اروند ساونت، انیل دیسائی اور سنجے راؤت نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو مکتوب ارسال کرکے مطالبہ کیا تھا کہ باغی ارکان کو علیحدہ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔ تاہم اسپیکر نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے چھ ارکان کے الگ گروپ کو منظوری دے دی۔ اس فیصلے کے بعد شیو سینا (یو بی ٹی) کے چھ باغی ارکانِ پارلیمنٹ کے شیو سینا کے شندے دھڑے میں شامل ہونے کی راہ تقریباً صاف ہو گئی ہے، جبکہ مہاراشٹر کی سیاست میں اس پیش رفت کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے