
ممبئی، 17 جون (ہ س)۔ شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی بغاوت صرف ادھو ٹھاکرے اور ان کی جماعت کے ساتھ غداری نہیں بلکہ مہاوکاس اگھاڑی اور عوامی اعتماد سے بھی غداری ہے۔ عوام نے انہیں مہایوتی کے خلاف ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا، لیکن انہوں نے اسی عوامی مینڈیٹ سے بے وفائی کی ہے۔ ایسے غداروں کو آئندہ عوام ہی سبق سکھائیں گے۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی۔اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) سے بغاوت کرکے الگ ہونے والے چھ ارکانِ پارلیمنٹ دراصل مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار تھے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی کامیابی کے لیے کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور شیوسینا کے کارکنان نے بھرپور انتخابی مہم چلائی تھی۔ کارکنان نے دباؤ اور دھمکیوں کی پروا کیے بغیر ان کی حمایت کی اور عوام نے بھی ان پر اعتماد ظاہر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بغاوت ان تمام کارکنان اور ووٹروں کی توہین ہے جنہوں نے ان کی کامیابی کے لیے محنت کی تھی۔ یہ چھ ارکانِ پارلیمنٹ نہ صرف ادھو ٹھاکرے بلکہ مہاوکاس اگھاڑی کے تمام حامیوں کے ساتھ بھی بے وفائی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ یہ لوگ اقتدار اور پیسے کی خاطر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مالی مفادات کے لیے فروخت ہو جاتے ہیں، وہ عوامی خدمت نہیں کر سکتے۔ ایسے افراد کو صرف دولت کی فکر ہوتی ہے اور وہ کسی کے بھی وفادار نہیں رہتے۔کانگریس کے ریاستی صدر نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جمہوری اور آئینی اقدار کو پامال کر رہی ہے اور ’’ہم کریں سو قانون‘‘ کی طرز پر حکمرانی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اقتدار حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہی بی جے پی کا واحد مقصد بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں انتخابات ’’پیسہ پھینکو، تماشہ دیکھو‘‘ کا کھیل بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر انتخاب میں کامیابی نہ ملے تو کامیاب امیدواروں کو مالی ترغیبات دے کر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو الیکشن کمیشن کے ذریعے ان کی امیدواری منسوخ کرانے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔سپکال نے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں جمہوریت کے لیے خطرناک ہیں۔ ان کے بقول سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے معاملات میں نہ مقننہ، نہ پارلیمنٹ اور نہ ہی عدلیہ سے مناسب انصاف ملتا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی نے مختلف آئینی اور جمہوری اداروں پر قبضہ جما لیا ہے اور خوف و دباؤ کے ماحول میں حکومت چلائی جا رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے تشویش کا باعث ہے اور عوام کو اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے