ہمالیہ کے دور دراز اور صاف ستھرا علاقے اب فضائی آلودگی سے اچھوتے نہیں ہیں: اے آر آئی ای ایس
نئی دہلی، 17 جون (ہ ص)۔ آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس) کے سائنسدانوں کے ایک مطالعہ کے مطابقہمالیہ کے دور دراز اور قدیم علاقے بھی اب فضائی آلودگی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق اتراکھنڈ کے م
فضا


نئی دہلی، 17 جون (ہ ص)۔ آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس) کے سائنسدانوں کے ایک مطالعہ کے مطابقہمالیہ کے دور دراز اور قدیم علاقے بھی اب فضائی آلودگی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں ۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق اتراکھنڈ کے منسیاری علاقے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوا کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔

محققین نے 2022تا2023کے دوران ایک سال تک غیر میتھین ہائیڈرو کاربن کا مطالعہ کیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ان آلودگیوں کی سطح سردیوں اور مون سون کے موسموں میں کم رہی، جب کہ موسم بہار اور خزاں کے دوران ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

تحقیق کے مطابق ایل پی جی اور ڈیزل کا استعمال، گاڑیوں کا اخراج اور مقامی تعمیراتی سرگرمیاں آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔ بینزین اور زائلین جیسے کیمیکل اوزون اور دیگر ثانوی آلودگیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

نینی تال کے مقابلے منسیاری میں آلودگی گیس کی سطح زیادہ پائی گئی، حالانکہ یہ اب بھی ہلدوانی اور دہلی جیسے شہری علاقوں سے کم ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ صحت کے لیے فوری طور پر خطرات کم ہیں، لیکن بینزین کا طویل مدتی رابطہ قائم کردہ حفاظتی حدود سے زیادہ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بشریاتی آلودگی ہمالیہ کے انتہائی حساس ماحولیاتی خطوں تک بھی پہنچ چکی ہے، ان علاقوں میں فضائی معیار کی مسلسل نگرانی اور آلودگی پر قابو پانے کے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande