
کولکاتا، 14 جون (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے اندر جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان باغی رکن پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ لوک سبھا میں ان کے کیمپ کی طاقت بڑھ کر 22 ارکان پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو اور ایم پیز جلد ہی ان کے گروپ میں شامل ہوں گے، جوان تعداد کو مزید مضبوط کریں گے۔اتوار کو نئی دہلی کے لیے روانہ ہونے سے پہلے کولکاتا ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کاکولی گھوش دستیدار نے کہا کہ باغی اراکین پارلیمنٹ کا ایک وفد پیر کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ علیحدہ پارلیمانی پارٹی کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کرے گا۔
کاکولی نے کہا، ’اب ہمارے ساتھ 22 ایم پی ہیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر نے ہمیں وقت دیا ہے۔ ہم ان سے ملاقات کریں گے اور ایک علیحدہ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کی درخواست کریں گے۔‘ تاہم، انہوں نے ان دو نئے ایم پیز کے نام بتانے سے انکار کر دیا جو مبینہ طور پر ان کے کیمپ میں شامل ہو رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے چار پانچ سالوں سے پارٹی کے اندر کئی لیڈر جنہوں نے مغربی بنگال کے حالات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے وہ مسلسل ان سے رابطے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باغی دھڑے کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق باغی ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس پہلے کولکاتا میں ہونا تھا لیکن اب نئی دہلی میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کی بھی میٹنگ میں شرکت کی توقع تھی، حالانکہ ان کا دہلی کا سفر سرکاری مصروفیات کی وجہ سے غیر یقینی ہے۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے باغی ارکان پارلیمنٹ کا ایک خط منظر عام پر آیا تھا، جس پر 19 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس دستاویز میں مبینہ طور پر کاکولی گھوش دستیدار، شتابدی رائے، بپی ہلدار، شرمیلا سرکار، پرسون بنرجی، دیپک ادھیکاری، جون مالیا، پارتھ بھومک، خلیل الرحمن، ابو طاہر خان، یوسف پٹھان، متالی بیگ، اور مالا رائے سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ کے نام شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق رچنا بنرجی اور سیانی گھوش کے دستخط بھی موجود ہیں۔اطلاعات کے مطابق ان ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر کو ایک خط لکھ کر کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں ایک علیحدہ پارلیمانی گروپ کو تسلیم کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم ا سپیکر سیکریٹریٹ نے ابھی تک اس خط کی وصولی یا حیثیت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
دریں اثنا ترنمول کانگریس کے اندر بڑھتے ہوئے اندرونی جھگڑوں نے ریاستی سیاست کو گرما دیا ہے۔ باغی دھڑے نے پہلے ہی مرکز میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ سینئر رکن پارلیمنٹ سدیپ بندیوپادھیائے اور مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے درمیان حالیہ ملاقات نے سیاسی قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی ہے۔دوسری طرف، ابھیشیک بنرجی، کلیان بنرجی، سوگتا رائے، مہوا موئترا، کیرتی آزاد، شتروگھن سنہا، پرتیما منڈل اور ساجدہ احمد جیسے ممبران پارلیمنٹ کے نام مبینہ باغیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais