
ماسکو، 11 جون (ہ س)۔ اسرائیل نے دریائے اردن کے مغرب میں واقع مغربی کنارے میں 61 بستیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 35 کروڑ ڈالر کی منصوبہ بندی کی ہے جس کی حکومت جلد منظوری دے سکتی ہے۔
ایکسیوس کے ایک صحافی براک راوڈ نے ایک سرکاری حکم کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کو بتایا کہ اسرائیل دریائے اردن کے کنارے مغربی کنارے میں 61 بستیوں کو آباد کرنے کے لئے 350 ملین یعنی 35کروڑ ڈالر سے زیادہ کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
راوڈ نے ایکس پر لکھا”توقع ہے کہ اسرائیلی کابینہ جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے میں 61 نئی بستیوں کے لیے فنڈنگکی منظوری دے گی۔“ اس تجویز سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ حکومت ان 61 نئی منظور شدہ بستیوں کو کاغذ سے حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کئی برسوں میں35 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کرے گی۔
صحافی نے کہا کہ اس منصوبے میں عارضی ہاو¿سنگ کمپلیکس اور پبلک انفراسٹرکچر کے لیے فنڈنگ بھی شامل ہے اور حالیہ دہائیوں میں بستیوں کو وسعت دینے کا سب سے اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیل کی آبادکاری کی سرگرمیاں بین الاقوامی برادری اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تنازع کا ایک بڑی وجہ رہی ہیں۔ فلسطینی اسے ایک پالیسی کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا مقصد اپنی سرزمین پر یہودی ریاست کی گرفت مضبوط کرنا ہے۔
مئی کے آخر میں، یورپی یونین نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق سرگرمیوں کے دوران فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں متعدد افراد اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد