کپتان نجم الحسین نے تقریباً دو سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں تسکین احمد کی واپسی پر اعتماد کا اظہار کیا
کپتان نجم الحسین نے تقریباً دو سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں تسکین احمد کی واپسی پر اعتماد کا اظہار کیا ڈھاکہ، 7 مئی (ہ س)۔ بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسین شانتو نے تیز گیندباز تسکین احمد کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تسکین کی تقریباً دو
نظم


کپتان نجم الحسین نے تقریباً دو سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں تسکین احمد کی واپسی پر اعتماد کا اظہار کیا

ڈھاکہ، 7 مئی (ہ س)۔ بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسین شانتو نے تیز گیندباز تسکین احمد کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تسکین کی تقریباً دو سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ہو رہی ہے اور انہیں پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جو 8 مئی سے شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

تسکین نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2024 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے گھریلو کرکٹ میں کوئی طویل فارمیٹ میچ نہیں کھیلا۔ نجم الحسین نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا، تسکین نے بہت اچھی تیاری کی ہے۔ خراب موسم نے تیاری کو قدرے مشکل بنا دیا تھا لیکن انہوں نے اپنے کام کے بوجھ کو اچھی طرح سنبھالا اور ضرورت کے مطابق گیندبازی کی۔ اس نے کچھ دنوں تک گھر کے اندر پریکٹس بھی کی۔ وہ بہت تجربہ کار کھلاڑی ہے اور تیاری کرنا جانتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں فزیو اور ٹرینر کی جانب سے بہت مثبت فیڈ بیک ملا ہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ تسکین اس ٹیسٹ میچ میں اچھی گیندبازی کریں گے۔ بنگلہ دیشی کپتان نے کہا کہ تسکین ہمیشہ سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن فٹنس، انجری اور کام کے بوجھ کے انتظام نے انہیں ہر بار ٹیم میں شامل کرنے سے روک دیا گیا۔ نجم الحسین نے کہا کہ جب بھی تسکین ٹیم میں ہوتے ہیں تو کپتان کے لیے چیزیں آسان ہو جاتی ہیں۔ وہ ٹیم کے لیے اضافی کوشش کرتا ہے، اور وہ گزشتہ سیریز میں بھی بہترین تھا۔

کپتان نے نوجوان اوپنر تنزید حسن تمیم کی بھی حمایت کی، جنہیں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پہلی بار ٹیم میں بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنزید سے اپنے قدرتی بلے بازی کے انداز کو طویل فارمیٹ کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے نہیں کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کا اپنا منفرد انداز ہوتا ہے میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی اپنے فطری کھیل میں تبدیلی لائے، رن بنانا اہم ہے چاہے ٹیم 80 اوور میں 400 رن بنائے یا 120۔

نجم الحسین نے بنگلہ دیش کے لیے آئندہ ٹیسٹ سائیکل میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر پہنچنے کا ہدف بھی مقرر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے گزشتہ دو برسوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ساتویں نمبر پر آنا ایک بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ہمارا ہدف چوتھے یا پانچویں نمبر پر پہنچنا ہے، ہمارے پاس آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسے مشکل غیر ملکی دورے ہیں لیکن ہوم سیریز ہمارے لیے بہت اہم ہوں گی۔

پاکستان کے خلاف سیریز کے حوالے سے نضم الحسین نے کہا کہ وہ اچھی اور متوازن پچ کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کا تیز گیندبازی کا شعبہ حالیہ برسوں میں ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پاکستان سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے اپنی مضبوط تیز گیندبازی کے لیے جانا جاتا ہے لیکن ہمارے تیز گیند باز میں بھی کافی بہتری آئی ہے اور وہ تعریف کے مستحق ہیں۔

سیریز کے نتائج کے بارے میں نجم الحسین نے کہا کہ ٹیم اس وقت زیادہ آگے کا نہیں سوچ رہی ہے اور اس کی پوری توجہ بہتر کرکٹ کھیلنے کے عمل پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر کبھی وائٹ واش جیسی چیزوں کے بارے میں نہیں سوچتا۔ ہمارا مقصد اگلے 10 دنوں میں پاکستان سے بہتر اور زیادہ مسابقتی کرکٹ کھیلنا ہے۔ عمل نتیجہ سے زیادہ اہم ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande